کرپٹو ایکسچینج بٹ گیٹ پر سائبر حملہ:35 کروڑ ڈالر چوری

دبئی: معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج بٹ گیٹ سائبر حملے کا نشانہ بن گیا، جس کے نتیجے میں ایکسچینج کے والٹس سے 35 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری ہونے کی اطلاع ہے۔ واقعے میں شمالی کوریا سے وابستہ ہیکرز کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ٹیک کرنچ کے مطابق بٹ گیٹ کو 24 ستمبر کو اپنے نظام میں غیر معمولی سرگرمی اور سیکیورٹی ہیک کا علم ہوا، جس کے بعد پلیٹ فارم نے تمام ادائیگیوں کو عارضی طور پر معطل کردیا۔

کمپنی کے مطابق واقعے کی تحقیقات قانون نافذ کرنے والے اداروں، بلاک چین سیکیورٹی اداروں اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کی مدد سے کی جارہی ہیں۔

ہیکرز نے مختلف بلاک چین نیٹ ورکس سے متعلق والٹس سے 35 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثے منتقل کیے۔ چوری ہونے والی کرپٹو میں ایتھریم (ای ٹی ایچ )، ایکس آر پی ، بی این پی اور یو ایس ڈی ٹی سمیت دیگر ٹوکنز شامل ہیں۔

پانچ بلاک چینز متاثر

بٹ گیٹ کی چیف ایگزیکٹو گریسی چن کے مطابق حملے میں آربیٹرم، آپٹیمزم، ایکس آر پی لیگر، ایتھریم اور بیس نیٹ ورکس کی بلاک چینز متاثر ہوئیں ۔ بعض بلاک چین نیٹ ورکس نے حملے کے بعد ہیکرز سے منسلک والٹ ایڈریسز کو منجمد کرنے کی کارروائی کی تصدیق بھی کی ہے۔

صارفین کا نقصان پورا کرنے کا اعلان

بٹ گیٹ کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ہونے والے نقصان کی تلافی یوزر پروٹیکشن فنڈ سے کی جائے گی۔ کمپنی کے مطابق اس فنڈ میں تقریباً 5500 بٹ کوائن موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت 46 کروڑ ڈالر سے زائد بنتی ہے۔

کرپٹو ایکسچینج کے مطابق اس حملے کا کمپنی کے سیلف کسٹڈی والٹ پر اثر نہیں پڑا، کیونکہ یہ ایکسچینج کے مرکزی نظام سے الگ سسٹم پر کام کرتا ہے۔

رپورٹ میں ہیکنگ کے واقعے میں شمالی کوریا سے وابستہ ہیکرز کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر تحقیقات جاری ہیں اور حتمی طور پر ذمہ داری کا تعین ہونا باقی ہے۔

رپورٹ میں فروری میں کرپٹو ایکسچینج بائے بٹ سے تقریباً 1.5 ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثوں کی چوری کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کا الزام شمالی کوریا سے وابستہ ہیکرز پر عائد کیا گیا تھا۔

بعد ازاں بلاک چین محققین نے دعویٰ کیا تھا کہ بائی بٹ سے چوری کیے گئے بعض فنڈز ایران سے منسلک والٹس میں منتقل ہوئے اور بعد میں مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے منتقل کیے گئے۔

بٹ گیٹ پر حملہ کرپٹو ایکسچینجز کی سائبر سیکیورٹی اور صارفین کے ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔ بٹ گیٹ کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔