فریبرگ، جرمنی: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے خطرات پر دنیا بھر میں تشویش کے باوجود یورپ کی ایک معروف اے آئی کمپنی کے سربراہ نے خطے پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کو صرف خطرات اور خدشات کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اس میں موجود مواقع پر بھی توجہ دے، بصورتِ دیگر یورپ عالمی اے آئی دوڑ میں مزید پیچھے رہ سکتا ہے۔
جرمن اے آئی اسٹارٹ اپ بلیک فوریسٹ لیبز کے چیف ایگزیکٹو رابن رومباخ کے مطابق یورپ کو مصنوعی ذہانت کے حوالے سے اپنی سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ توجہ خوف اور خطرات کے بجائے امید، جدت اور مواقع پر ہونی چاہیے۔
رابن رومباخ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر یورپ جدید ترین اے آئی ماڈلز کی تیاری میں امریکا اور چین کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو اسے تیزی سے آگے بڑھنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔
اے آئی کی عالمی دوڑ میں یورپ کہاں کھڑا ہے؟
مصنوعی ذہانت کے جدید ترین ماڈلز کی تیاری میں اس وقت امریکا اور چین کو نمایاں برتری حاصل ہے، جبکہ یورپی ممالک اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
یورپی پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا سوال یہ ہے کہ جدید اے آئی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ نقصانات اور حفاظتی خطرات سے کیسے نمٹا جائے۔
حالیہ عرصے میں اے آئی سیفٹی سے متعلق خدشات اس وقت مزید نمایاں ہوئے جب مختلف تجربات کے دوران مصنوعی ذہانت کے نظام کی جانب سے مقررہ پابندیوں سے بچ نکلنے کے واقعات سامنے آئے۔
ان خدشات کے باعث ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار محدود کرنے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم رومباخ کا مؤقف ہے کہ خوف کی بنیاد پر اے آئی کی ترقی کو روکنا مناسب راستہ نہیں۔
جرمنی کے تاریخی شہر فریبرگ میں قائم بلیک فوریسٹ لیبز نے مختصر عرصے میں اے آئی کی دنیا میں اپنی نمایاں جگہ بنائی ہے۔ کمپنی کا نام بھی جرمنی کے مشہور بلیک فاریسٹ سے متاثر ہے۔
تقریباً 3.25 ارب ڈالر مالیت رکھنے والی اس کمپنی کے ملازمین کی تعداد 100 سے کچھ زیادہ ہے، لیکن اس کے تیار کردہ فلکس ماڈلز متن کی ہدایات سے تصاویر اور متحرک ویڈیوز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کمپنی نے حال ہی میں ہالی ووڈ کے معروف فلم ساز مارٹن اسکورسیزی کو اپنا مشیر مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا، جس کے بعد فلمی صنعت میں اے آئی کے استعمال اور ملازمتوں کے مستقبل پر نئی بحث چھڑ گئی۔
رومباخ خود بھی اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔ انہوں نے لیٹنٹ ڈیفیوژن کی تیاری میں حصہ لیا، جو آج کے متعدد اے آئی امیج جنریشن سسٹمز کے بنیادی ٹیکنالوجیکل تصورات میں شمار ہوتا ہے۔
بلیک فوریسٹ لیبز اب صرف تصاویر بنانے والے ماڈلز تک محدود نہیں رہی بلکہ ظاہری اے آئی کے شعبے میں بھی قدم بڑھا رہی ہے۔
کمپنی کے جدید ترین ماڈل کو جرمن کار ساز ادارے اوڈی کے ساتھ ایک منصوبے میں آزمایا گیا ہے، جس کا مقصد روبوٹس کو صنعتی پیداوار کے دوران مختلف کام انجام دینے کے قابل بنانا ہے۔
کمپنی کے جرمنی سے مضبوط تعلقات کے باوجود اس کے امریکا سے بھی گہرے روابط ہیں۔ اس کا ایک مرکزی دفتر سان فرانسسکو میں بھی ہے ۔
رومباخ کے مطابق بلیک فوریسٹ لیبز کا آغاز ہوا تو یورپ میں خاص طور پر جدید اور پیچیدہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں اسٹارٹ اپس کے لیے مطلوبہ ماحول محدود تھا۔
ان کے خیال میں جدید ترین اے آئی ماڈل تیار کرنے کے لیے صرف ذہین ماہرین کافی نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر سرمایہ، کمپیوٹنگ پاور اور تیز رفتار فیصلہ سازی بھی ضروری ہے۔
برسلز میں قائم ٹیکنالوجی پالیسی تھنک ٹینک کیرے کے ماہر زیک میئرز نے بھی یورپ میں اے آئی کی ترقی کی راہ میں سرمایہ تک رسائی کو ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق یورپ میں بہت سی کمپنیاں روایتی طور پر بینکوں سے مالی معاونت حاصل کرتی ہیں، جبکہ بینک ایسے کاروباروں میں سرمایہ کاری کے معاملے میں زیادہ محتاط ہوتے ہیں جنہیں منافع کمانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس وینچر کیپیٹل سرمایہ کار نئی اور زیادہ خطرہ رکھنے والی ٹیکنالوجیز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ لگانے کے لیے زیادہ تیار ہوتے ہیں۔
رابن رومباخ نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو چند بڑی کمپنیوں تک محدود رکھنے کے خیال پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
بلیک فوریسٹ لیبزکی جانب سے اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز پر زور دیا جاتا ہے، جن میں سے بعض ماڈلز محققین اور ڈویلپرز کے لیے دستیاب کیے جاسکتے ہیں۔ اس سے اے آئی ٹیکنالوجی میں شفافیت اور حفاظتی جائزے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اتنی اہم ٹیکنالوجی کو صرف چند کمپنیوں کے کنٹرول میں رکھنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ اس سے آزادانہ نگرانی اور تحقیق کے مواقع محدود ہوسکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے ممکنہ نقصانات پر دنیا بھر میں بحث جاری ہے، لیکن بلیک فوریسٹ لیبزکے سربراہ کے نزدیک ٹیکنالوجی سے زیادہ اہم مسئلہ اسے استعمال کرنے والے انسان ہیں۔
رابن رومباخ نے اے آئی کے خطرات پر گفتگو کرتے ہوئے انتہائی مختصر مگر معنی خیز انداز میں کہا: انسانیت کو ختم کرنے والی سب سے بڑی چیز حماقت ہوسکتی ہے۔
ان کا یہ تبصرہ اس وسیع بحث کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں ایک طرف اے آئی کی غیر معمولی صلاحیتوں کو دنیا کے لیے نئے مواقع قرار دیا جارہا ہے، تو دوسری جانب اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال، حفاظتی کمزوریوں اور انسانی نگرانی سے متعلق سوالات بھی مسلسل اٹھ رہے ہیں۔
یورپ کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حفاظتی اصول، شفافیت اور ذمہ دارانہ استعمال کو بھی نظرانداز نہ کرے۔


