ناگویا: جاپان کے 11 سالہ ای اسپورٹس کھلاڑی یوکی کوریہارا نے ایشین گیمز میں شاندار کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنے ملک بلکہ عالمی ای اسپورٹس کی دنیا میں بھی نئی تاریخ رقم کردی۔
ناگویا میں جاری ایشین گیمز کے ای اسپورٹس مقابلوں میں یوکی کوریہارا نے پیویو پیو یو چیمپئنز کے فائنل میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سے کہیں زیادہ عمر کے حریف کو 10-2 سے شکست دے کر طلائی تمغہ اپنے نام کرلیا۔
یوکی کی اس کامیابی کی خاص بات صرف گولڈ میڈل جیتنا نہیں بلکہ ان کی عمر ہے۔ محض 11 برس کی عمر میں ایشین گیمز کا طلائی تمغہ جیت کر وہ کھیلوں کی تاریخ میں سب سے کم عمر گولڈ میڈلسٹ بن گئے ہیں۔
جاپانی میڈیا نے ننھے گیمر کی کامیابی کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اسے بھرپور انداز میں سراہا۔ جاپانی اخبارات کے صفحۂ اول پر یوکی کی تصاویر نمایاں رہیں جبکہ ایک اخبار نے سرخی لگائی کہ 11 سالہ کھلاڑی نے گولڈ جیت لیا۔
فائنل میں حریف کو یکطرفہ شکست
پیویو پیو یو چیمپئنز ایک پزل گیم ہے جس میں کھلاڑی مختلف رنگوں کے بلاکس کو مخصوص ترتیب سے جوڑ کر ختم کرتے ہیں۔ بظاہر سادہ دکھائی دینے والے اس کھیل میں رفتار، توجہ، حکمت عملی اور فوری فیصلہ سازی انتہائی اہم ہوتی ہے۔
فائنل میں یوکی نے ابتدا میں ایک میچ ہارنے کے باوجود دباؤ میں آنے کے بجائے کھیل پر اپنی گرفت مضبوط کی اور مسلسل بہترین کمبی نیشنز بناتے ہوئے مقابلہ 10-2 سے اپنے نام کرلیا۔ فائنل میں ان کے ایک غیر معمولی 15 چین کمبو نے بھی شائقین اور جاپانی میڈیا کی خاص توجہ حاصل کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مقابلے کے دوران یوکی کا انداز انتہائی پرسکون رہا۔ اہم لمحات میں بھی ان کے چہرے پر گھبراہٹ کے بجائے مکمل اطمینان دکھائی دیا۔ جاپانی میڈیا نے ان کے اس انداز کو بھی نمایاں کیا اور یہاں تک لکھا کہ وہ فائنل شروع ہونے سے پہلے جمائی بھی لے رہے تھے۔
پہلی جماعت سے شروع کیا گیم کھیلنا
یوکی کوریہارا نے پرائمری اسکول کے پہلے سال ہی میں پیویو پیو یو چیمپئنز کھیلنا شروع کیا تھا۔ کھیل میں مہارت بڑھتی گئی تو انہوں نے باقاعدہ ٹورنامنٹس میں حصہ لینا شروع کردیا اور کم عمری میں ہی کامیابیاں حاصل کرنے لگے۔
رواں سال اپریل میں انہیں پروفیشنل لائسنس بھی مل گیا۔ اس کے بعد وہ باقاعدگی سے بالغ کھلاڑیوں کے خلاف مقابلہ کرتے رہے اور انہیں شکست دے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے رہے۔
ایشین گیمز میں ان کی تاریخی کامیابی نے جاپان کو ای اسپورٹس میں اپنا پہلا ایشین گیمز گولڈ میڈل بھی دلادیا۔
گولڈ میڈل کے بعد بھی سادہ خواہشات
اتنی بڑی کامیابی کے باوجود یوکی کوریہارا کی خواہشات ایک عام 11 سالہ بچے جیسی ہیں۔ وہ مقابلوں سے پہلے ایل مچھلی کھانا پسند کرتے ہیں جبکہ مستقبل میں ان کا خواب گیمر یا عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی بننا نہیں بلکہ ٹرین ڈرائیور بننا ہے۔
طلائی تمغہ جیتنے کے بعد جب ان سے جذبات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ کچھ شرمندگی محسوس کررہے تھے، تاہم انہیں اپنا تمغہ بہت خوبصورت، چمکدار اور بھاری لگا۔
انعامی رقم خرچ کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو یوکی نے بتایا کہ انہیں چمکدار چیزیں پسند ہیں، اس لیے وہ کچھ قیمتی پتھر خریدنا چاہیں گے، خصوصاً نیلے رنگ کے پتھر۔
جاپان کو ملا نیا اسپورٹس اسٹار
یوکی کوریہارا کی کامیابی نے انہیں راتوں رات جاپان کے نئے اسپورٹس اسٹارز میں شامل کردیا ہے۔ ایشین گیمز کے میدان میں جہاں عام طور پر روایتی کھیلوں کے بڑے نام خبروں میں رہتے ہیں، وہیں ایک 11 سالہ اسکول کے طالب علم نے ای اسپورٹس کے ذریعے اپنی الگ پہچان بنا لی ہے۔

