پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات: ٹیکس وصولی اور اثاثوں کی تفصیلات پر غور

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے کے لیے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے، جس میں وزارت خزانہ، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ حکام نے معاشی امور اور اصلاحات پر آئی ایم ایف مشن کو بریفنگ دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف مشن کی سربراہی آئیوا پیٹرووا کر رہی ہیں اور مشن تقریباً دو ہفتے پاکستان میں قیام کرے گا۔

یہ مذاکرات پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف ) پروگرام کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے سے متعلق ہیں۔

مذاکرات کے دوران وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف حکام کو رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کے انتظامات کے حوالے سے تفصیلات اور ٹیکس وصولی کی حکمت عملی اور اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

مذاکرات میں ٹیکس وصولی بڑھانے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کے استعمال پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ آئی ایم ایف مشن نے ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹیکس ادا نہ کرنے والے افراد اور کاروباری اداروں تک رسائی بڑھانے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔

ایف بی آر پہلے ہی ٹیکس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے عمل کو زیادہ ڈیجیٹل اور رسک بیسڈ بنانے کے لیے نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کرچکا ہے، جس کے تحت کیسز کے انتخاب اور افسران کو تفویض کرنے کے عمل میں کمپیوٹرائزڈ نظام استعمال کیا جائے گا۔

سرکاری افسران کے اثاثے بھی مذاکرات کا حصہ

مذاکرات میں سرکاری ملازمین، بالخصوص افسران کے اثاثے ظاہر کرنے کے معاملے پر بھی آئی ایم ایف مشن کو بریفنگ دی گئی۔

حکام نے بتایا کہ سرکاری افسران کے اثاثوں سے متعلق ڈیجیٹل ریٹرنز کے لیے قانون سازی ہوچکی ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کے پاس افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹل شکل میں دستیاب ہوں گی۔