امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے اسٹارشپ کی تجرباتی پرواز کے دوران ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے راکٹ کو کامیابی سے زمین کے مدار تک پہنچا دیا۔
اے ایف پی کے مطابق اسٹارشپ کو ٹیکساس میں واقع اسپیس ایکس کے لانچ کمپلیکس سے روانہ کیا گیا۔ پرواز کے دوران ایک انجن مقررہ وقت سے پہلے بند ہوگیا، تاہم مشن کنٹرول نے پرواز جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور اسٹارشپ مدار تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔
اسپیس ایکس کے مطابق اسٹارشپ کو زمین سے تقریباً 275 کلومیٹر کی بلندی پر پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جہاں یہ تقریباً 28 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کے گرد چکر لگائے گا۔
مشن کے دوران اسٹارشپ سے 26 اسٹارلنک سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا منصوبہ بھی شامل ہے، جبکہ مجموعی پرواز تقریباً 10 گھنٹے جاری رہنے کی توقع ہے۔ راکٹ کے مدار میں ری فیولنگ سے متعلق تجربات بھی اس مشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔
منصوبے کے مطابق اسٹارشپ زمین کے گرد 6 چکر مکمل کرنے کے بعد بحرالکاہل میں مشن کا اختتام کرے گا، جبکہ سپر ہیوی بوسٹر کو خلیجِ میکسیکو میں گرایا جائے گا۔ اس مرتبہ بوسٹر کو مکینیکل بازوؤں کے ذریعے پکڑنے کا منصوبہ شامل نہیں کیا گیا۔
اسٹارشپ کی گزشتہ کئی تجرباتی پروازوں کو مختلف تکنیکی مشکلات اور ناکامیوں کا سامنا رہا ہے، تاہم موجودہ مشن کی کامیابی کو پروگرام کی پیش رفت میں اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسپیس ایکس اسٹارشپ کو مستقبل میں چاند اور مریخ تک انسانوں اور سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے تناظر میں بھی اسٹارشپ کی ٹیکنالوجی کو اہمیت حاصل ہے۔
کمپنی کا طویل مدتی ہدف اسٹارشپ کو مکمل طور پر دوبارہ قابلِ استعمال خلائی نظام بنانا ہے، جبکہ حالیہ پرواز کو اسی سمت میں مزید تجربات اور آئندہ مشنز کی تیاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔


