نیویارک: مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز پر امریکا اپنا حتمی جواب دے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیویارک میں موجود عباس عراقچی نے قطری ثالثوں کو امن اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لئے شرائط پیش کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں قطری نمائندوں نے بھی کچھ تجاویز پیش کی ہیں ہم نے ان پر بات کی۔ اب وہ دوبارہ یہ معاملہ امریکی فریق کے سامنے رکھیں گے جس کے بعد ہمیں امریکا کا حتمی جواب پہنچایا جائے گا۔ قطریوں کو امریکا کی جانب سے حوصلہ افزا جواب کی امید ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم سمندری راستہ ہے۔ ایران پر امریکا اسرائیل کی جانب سے جنگ مسلط کئے جانے سے پہلے دنیا کے تیل اور ایل این جی کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا تھا۔
رواں برس فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ ایران نے جواب میں ہرمز کی ناکہ بندی کر دی تھی، جس پر امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر کے جواب دیا۔
ایران کی شرائط
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران نے ہرمز کھولنے کے لیے تین بڑی شرطیں رکھی ہیں۔
ان 3 شرطوں میں بشمول لبنان پورے مشرق وسطیٰ میں 7 روزہ جنگ بندی، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی، ایرانی تیل کی برآمد میں پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔
گزشتہ ہفتے نیویارک میں عباس عراقچی اور امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان بھی اسی معاملے پر مذاکرات ہوئے تھے۔


