پشاور: خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو تبدیل کرنے کے معاملے پر تحریک انصاف کے اندر مختلف گروپس متحرک ہوگئے ہیں، جبکہ متعدد ارکان اسمبلی کی جانب سے وزارتِ اعلیٰ کے حصول کے لیے لابنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عمر ایوب کے کزن ارشد ایوب، اسپیکر بابر سلیم سواتی، صوبائی وزرا ڈاکٹر امجد اور شکیل خان، مینا خان آفریدی سمیت دیگر ارکان اسمبلی بھی وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے خواہشمند گروپ میں شامل ہیں۔
سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی ایک مرتبہ پھر صوبے کی وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔
دوسری جانب پارٹی کے ناراض دھڑے میں بھی کم از کم دو ارکان کی نظریں وزیراعلیٰ کی نشست پر ہیں، جس کے باعث پارٹی کے اندر مختلف گروپس کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے گروپ بندی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ پشاور میں گزشتہ شب ہونے والی ایک غیر رسمی نشست کے دوران 6 ارکان اسمبلی نے مبینہ طور پر ٹاس کے ذریعے باری باری خود کو وزیراعلیٰ بنانے کا دلچسپ فیصلہ بھی کیا۔
پارٹی کے اندر جاری اس سیاسی سرگرمی کے نتیجے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔


