فرانسیسی ادب کی دنیا میں تہلکہ مچانے والا ہیٹی نژاد کینیڈین مصنف تھیلیسن اورلین اپنے پہلے ہی ناول پر اے آئی کے استعمال کے سنگین الزام کے بعد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔
ہجرت کے موضوع پر 38 سالہ مصنف کا لکھا گیا ناول اٹ واز آئیدر دیٹ اور ڈائی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب بن چکا تھا اور فرانس کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ کے لیے نامزد تھا۔
ایک گمنام ایکس اکاؤنٹ نے پین گرام جیسے اے آئی ڈیٹیکٹر ٹولز کی رپورٹ شیئر کی جس میں ناول کے 100 فیصد اے آئی سے لکھے ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
اے ایف پی کی اپنی جانچ میں بھی یہی نتیجہ آیا، تاہم دوسرے ٹولز نے اسے انسانی تحریر قرار دیا۔
الزام کے بعد مصنف کو ایوارڈ لسٹ سے نکال دیا گیا اور پبلشر نے اس کے تمام دورے منسوخ کر دیے۔
اوریلین نے اے آئی کے ذریعے ناول لکھنے کے الزام کی تردید کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خلاف ہونے والی تنقید میں نسلی تعصب بھی شامل ہے۔
تنازع کے بعد فرانس کے ایک بڑے ادبی انعام کی دوڑ سے ان کا نام نکال دیا گیا جبکہ ان کے پروموشنل دورے بھی معطل کردیئے گئے۔
مصنف کے قریبی دوست اور ہیٹی کے شاعر جیمز نوئل کے مطابق اوریلین اس تنازع سے شدید متاثر اور دل شکستہ ہیں۔ ایک اور ہیٹی نژاد ادیب روڈنی سینٹ ایلوئی نے بھی ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایک نوجوان کو محض اے آئی کے تجزیے کی بنیاد پر عوامی سطح پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔
تاہم معاملہ صرف اے آئی کے استعمال تک محدود نہیں رہا۔ اوریلین کی ایک سابقہ اخباری تحریر اور مختصر کہانی میں سرقے کے شواہد سامنے آنے کے بعد ان پر مزید سوالات اٹھنے لگے۔
اوریلین نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی کتاب خود لکھنے کے حوالے سے ثبوت پیش کریں گے اور صورتحال معمول پر آنے کے بعد تفصیل سے اپنا مؤقف سامنے رکھیں گے۔
ہیٹی میں 2010 کے تباہ کن زلزلے کے بعد اپنا وطن چھوڑنے والے اوریلین نے کینیڈا میں نئی زندگی شروع کی۔ کتابوں کے شوقین اور نسبتاً کم گو ادیب کے طور پر پہچانے جانے والے اوریلین کی اچانک شہرت اب ایک بڑے ادبی اور ٹیکنالوجی تنازع میں بدل گئی ہے۔


