مصنوعی مٹھاس کو عام طور پر چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن نئی تحقیق نے ان کے طویل مدتی استعمال اور دماغی صحت کے درمیان ممکنہ تعلق پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔
دنیا بھر کی مارکیٹوں میں مصنوعی مٹھاس مختلف شکلوں اور ناموں سے دستیاب ہیں۔ ہر روز کروڑوں افراد انہیں مشروبات، کھانے اور دیگر مصنوعات میں استعمال کرتے ہیں۔
چینی کے مقابلے میں ان متبادل مٹھاس کو اس لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے کہ ان سے خون میں شکر کی سطح میں نسبتاً کم اضافہ متوقع ہوتا ہے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے متعدد مصنوعی اور دیگر شوگر متبادل اجزا کو مخصوص استعمال کی حدود کے تحت محفوظ قرار دیا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں مختلف مطالعات میں ان کے طویل مدتی صحت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
امریکی اکیڈمی آف نیورولوجی کے طبی جریدے نیورولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں مصنوعی استعمال کرنے والے افراد میں دوسروں کے مقابلے میں سوچنے اور یادداشت کی بعض صلاحیتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
محققین نے دماغی صلاحیتوں میں کمی کو تقریباً 1.6 سال کی دماغی عمر بڑھنے کے مساوی قرار دیا۔ تاہم اس نتیجے کا مطلب یہ نہیں کہ مصنوعی مٹھاس دماغ کو لازماً تیزی سے بوڑھا کرتی ہے۔ یہ ایک مشاہداتی تعلق ہے اور اس سے براہِ راست وجہ اور اثر ثابت نہیں ہوتا۔ اس لیے نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ شواہد کی بنیاد پر تمام مصنوعی مٹھاس کو فوراً ترک کرنے کا عمومی مشورہ دینا قبل از وقت ہوگا۔ مختلف سویٹنرز کے جسم پر اثرات بھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے اور ان کے استعمال کی مقدار بھی اہم ہے۔
یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو میڈیکل اسکول میں جیریاٹرکس کی ماہر اور تحقیق کی مرکزی مصنفہ کلاڈیا سُوئیموٹو نے اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی مٹھاس اور دماغی صحت کے درمیان ممکنہ تعلق کے ساتھ ساتھ مستقبل کی تحقیق کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ آیا یہ تعلق خود سویٹنرز کی وجہ سے ہے یا ان افراد کے دیگر غذائی، طرزِ زندگی یا صحت سے متعلق عوامل بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔
فی الحال اہم نکتہ یہی ہے کہ نئی تحقیق تشویش کا ایک ممکنہ پہلو ضرور سامنے لاتی ہے، لیکن اسے مصنوعی مٹھاس کے استعمال اور دماغی عمر بڑھنے کے درمیان حتمی سبب کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔


