پیرس: فرانس میں اسکولوں کے طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرگیا، جس کے دوران 600 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ درجنوں پولیس اہلکار اور سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔ طلبہ اساتذہ کی کمی، طویل اور مشکل اوقاتِ کار، بڑے کلاس رومز اور شدید گرمی میں غیر موزوں تعلیمی ماحول کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق طلبہ کا احتجاج گزشتہ ہفتے پیرس کے آس پاس کے علاقے سے شروع ہوا تھا اور اب فرانس کے مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے۔ طلبہ کے مطالبات میں اساتذہ کی کمی، کلاسوں میں طلبہ کی تعداد، تدریسی اوقات اور گرمی کے دوران کلاس رومز کا غیر موزوں درجہ حرارت شامل ہیں۔
اس وقت فرانس کے مخلتف علاقوں میں ہائی اسکولوں کے باہر تقریباً 340 مظاہرے جاری ہیں جبکہ احتجاج کے باعث 160 سے زائد تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز ہائی اسکولوں کی ناکہ بندیوں کے دوران 625 افراد کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے ۔
وزیر داخلہ کے مطابق بدھ کو مجموعی طور پر 356 اسکول متاثر ہوئے جبکہ 83 پولیس اہلکار اور ژاندارمری کے ارکان زخمی ہوئے۔
حکام کے مطابق بعض مقامات پر پولیس پر اشیا پھینکی گئیں، توڑ پھوڑ، مبینہ آتش زنی کی کوششیں اور دیگر پرتشدد واقعات بھی پیش آئے۔ بعض اسکولوں میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جبکہ ایک اسکول کی سربراہ پر پٹرول چھڑکنے کا واقعہ رپورٹ کیا گیا۔
فرانسیسی شہر مارسیلے میں صبح کے وقت بس، ٹرام اور میٹرو سروسز معطل کردی گئیں۔ حکام نے اس کی وجہ احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور ڈرائیوروں پر حملوں کو قرار دیا۔
اسی طرح اسٹراسبرگ میں بھی ٹرام سروس عارضی طور پر معطل کی گئی۔ مقامی حکام کے مطابق فیصلہ مظاہرین اور شرپسند عناصر کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے کیا گیا۔
پیرس کے علاوہ بورڈو، لیون اور لِل سمیت کئی شہروں میں احتجاج اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ لِل میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس بھی استعمال کی۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام میں اساتذہ کی کمی، کلاسوں کا حجم، طویل تعلیمی اوقات اور گرمی کے دوران کلاس رومز کی صورتحال ان کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے۔


