ویلنگٹن: جنوبی بحرالکاہل میں ایک اسپرم وہیل سے ٹکرانے کے بعد 16 میٹر طویل یاٹ ڈوب گئی، تاہم چار ملاحوں کو تقریباً 18 گھنٹے بعد بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا۔
اے ایف پی کے مطابق جنوبی بحرالکاہل کے ایک دور افتادہ جزیرے نورفوک آئی لینڈ سے تقریباً 250 ناٹیکل میل شمال میں ٹائی ٹیم نامی 16 میٹر لمبی پرتعیش کشتی پر سوار چار افراد کا اسپرم وہیلز کے ایک غول سے سامنا ہوا۔
آسٹریلوی ملاح جیما کوپر نے بتایا کہ اچانک ایک زور دار دھماکے جیسی آواز سنائی دی اور پوری کشتی ایک جانب ڈوب گئی۔ وہ اسٹیئرنگ وہیل سے گر گئیں۔ ابتدا میں عملے کو معلوم نہیں تھا کہ کیا ہوا، تاہم پانی میں بھورے رنگ کی جھلک اور قریب موجود وہیل کو دیکھ کر انہیں اندازہ ہوگیا کہ کشتی وہیل سے ٹکرائی ہے۔
جیما کے شوہر جیریمی کوپر نے بتایا کہ وہ کشتی کے نچلے حصے میں سو رہے تھے اور ٹکر کے جھٹکے سے بیدار ہوئے۔
وہیل سے ٹکرانے کے تقریباً 30 منٹ بعد ملاحوں نے ہنگامی بیکن فعال کیا اور مے ڈے کال جاری کردی۔ عملے نے کئی گھنٹے کشتی میں موجود پانی نکالنے کی کوشش کی جبکہ انجن کو بھی پانی اور دیگر رکاوٹوں سے بچانے کی کوشش جاری رکھی۔
نیوزی لینڈ کی فضائیہ نے علاقے میں گشتی طیارہ بھیجا، جس نے ریڈیو رابطہ قائم کرنے اور امدادی کارروائی میں معاونت کی۔
رات گئے جب کشتی کو بچانا ممکن نہ رہا تو چاروں ملاح لائف رافٹ میں منتقل ہوگئے۔ پرسکون سمندر اور پورے چاند کی روشنی میں انہوں نے رات لائف رافٹ میں گزاری۔
اتوار کی علی الصبح ملاحوں نے ڈوبتی یاٹ سے لائف رافٹ کا رابطہ منقطع کردیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ کشتی انہیں بھی اپنے ساتھ کھینچ سکتی ہے۔ کچھ ہی دیر بعد ٹائی ٹیم لہروں میں غائب ہوگئی۔
نیوزی لینڈ کی فوج کے مطابق 143 میٹر طویل کنٹینر شپ ایم وی سوفرونا سرولے نے واقعے کے 158 گھنٹے بعد چاروں ملاحوں کو ریسکیو کرلیا۔
جیریمی کوپر کے مطابق اتنے بڑے بحری جہاز کا چھوٹی لائف رافٹ کے قریب آنا بھی خوفناک تجربہ تھا، تاہم تقریباً آدھے گھنٹے میں چاروں ملاح سیڑھی کے ذریعے جہاز پر پہنچ گئے، جہاں انہیں کافی دی گئی اور کپتان سے ملاقات ہوئی۔
انہوں نے اپنے بحرالکاہل کے سفر کے اختتام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سفر بہت شاندار تھا، مگر اس کا اختتام انتہائی برا ہوا، تاہم کسی انسانی جان کا نقصان نہیں ہوا۔


