لاہور: وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں پیشی کے بعد واپس روانہ ہوگئے، جہاں چار رکنی تفتیشی ٹیم نے ان سے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک مختلف سوالات کیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق این سی سی آئی اے کی ٹیم نے محمد رضوان سے سوالنامے سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔ اسی دوران ٹیم نے محمد رضوان سے ان کا فون آن لاک بھی کرایا گیا ۔
محمد رضوان پیشی مکمل ہونے کے بعد این سی سی آئی اے کے دفتر سے باہر آئے تو وہ پُرسکون اور مسکراتے ہوئے دکھائی دیے۔ اس موقع پر صحافیوں نے ان سے تفتیش اور موبائل فون سے متعلق سوالات کیے۔
روانگی کے دوران ایک مداح نے محمد رضوان کے ساتھ تصویر بنوانے کی کوشش کی۔ کرکٹر نے مداح کا موبائل فون کیمرامین کو دے کر تصویر بنوائی اور مداح کو ہدایت کی کہ وہ اپنا موبائل فون ضرور واپس لے لے۔
اس موقع پر ایک صحافی نے محمد رضوان سے سوال کیا کہ کیا ان کا موبائل فون واپس مل گیا ہے؟ قومی کرکٹر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میں اس وقت گونگا ہوں۔
صحافیوں سے گفتگو کے دوران محمد رضوان نے مزید کہا کہ مجھے بھوک لگی ہے، جانے دیں۔ این سی سی آئی اے میں بہت پیار ملا ہے۔


