خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی آئینی آپشنز لیکن پہلے سیاسی حل : بلاول

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی آئینی ہتھیار ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کی جماعت کی رائے ہے کہ ایسے اقدامات سے پہلے سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے خیبرپختونخوا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا تھا، تاہم پیپلز پارٹی نے مشورہ دیا کہ وفاق سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرے۔ ان کے مطابق پرامن احتجاج سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے اور اسلام آباد میں جاری مذاکرات کامیاب ہونے چاہئیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق سے رابطہ کرے اور مارچ ختم کیا جائے۔

سیاست اور دہشت گردی کو الگ رکھا جائے

بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاسی معاملات اور دہشت گردی کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کا مقابلہ وفاق اور تمام صوبوں کو مل کر کرنا ہوگا، جبکہ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

کراچی کو پانی کی قلت کا سامنا

کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک بھر میں پانی کی کمی ہے، تاہم کراچی کو اضافی پانی فراہم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ کو واٹر اکارڈ کے مطابق اس کے حصے کا پانی نہیں مل رہا۔

انہوں نے کہا کہ کیماڑی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ لیاری میں 10 ملین گیلن اضافی پانی فراہم کیا جائے گا۔

وفاق سے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ

بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاق نے کراچی کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔ انہوں نے کے فور منصوبے اور سکھر، حیدرآباد موٹروے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے منصوبوں پر تیزی سے کام کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز اور منی پاکستان ہے، اس لیے شہر کے بنیادی مسائل حل کرنا ضروری ہے۔

کراچی ہمارا شہر ہے

پیپلز پارٹی چیئرمین نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کی خدمت جاری رکھی جائے گی۔ ان کے مطابق وہ اور ان کی والدہ کراچی میں پیدا ہوئے، اس لیے شہر کی ترقی اور مسائل کے حل کے لیے کام جاری رکھیں گے۔