العریش: اسرائیل کی غزہ پر بربریت کے باعث اپنے گھروں سے بے گھر ہونے والے فلسطینی بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بحال رکھنے کے لیے ایک فلسطینی خاتون استاد نے مصر کے شمالی علاقے سینائی میں اسکول قائم کردیا، جہاں اب تقریباً 400 بچے زیرِ تعلیم ہیں۔
غزہ سے بے گھر ہونے والی ہدیل زروب خود بھی جنگ کے تلخ حالات سے گزر چکی ہیں۔ وہ اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے تقریباً 6 ماہ بعد اپنے خاندان کے ہمراہ غزہ چھوڑ کر مصر کے شہر العریش پہنچیں، جہاں انہوں نے دیکھا کہ جنگ سے متاثر ہوکر آنے والے بچوں کے لیے تعلیم کا مناسب انتظام موجود نہیں۔
ہدیل زروب نے دیگر فلسطینی اساتذہ کے ساتھ مل کر ابتدا میں کرائے کی ایک عمارت میں چند بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ چھوٹی سی کوشش ایک باقاعدہ مفت اسکول میں تبدیل ہوگئی۔
پہلے سال اس اسکول میں تقریباً 150 بچے پڑھتے تھے، تاہم اب طلبہ کی تعداد بڑھ کر تقریباً 400 ہوچکی ہے، جن کی عمریں 6 سے 18 سال کے درمیان ہیں۔ اسکول کے کرائے اور تعلیمی سامان کے اخراجات ایک مصری فلاحی ادارے کی معاونت سے پورے کیے جارہے ہیں۔
یہ اسکول شمالی سینائی میں فلسطینی بچوں کے لیے قائم واحد فلسطینی تعلیمی ادارہ ہے۔

کتابوں سے پھر جڑتے بچے
اسکول کے صحن میں فلسطینی بچے روایتی لباس اور فلسطینی رومال پہنے قومی پرچم لہراتے ہوئے صبح کی اسمبلی میں شریک ہوتے ہیں۔ کلاس رومز میں انہیں فلسطینی نصاب کے مطابق کتابیں اور دیگر تعلیمی سامان فراہم کیا جاتا ہے، جن میں کئی کتابیں غزہ سے لائی گئی ہیں۔
کچھ بچے ریاضی کے سوالات حل کرتے نظر آتے ہیں تو کچھ رنگین پنسلوں سے گھر، پھول اور سمندر کے مناظر بناتے ہیں۔ کلاس رومز میں بچوں کی ہنسی، گیت اور تالیاں جنگ کی تلخ یادوں کو کچھ دیر کے لیے پس منظر میں دھکیل دیتی ہیں۔
ان بچوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو جنگ کے دوران زخمی ہوئے اور علاج کے لیے مصر پہنچے، جبکہ کئی اپنے خاندانوں کے ہمراہ غزہ سے نقل مکانی کرکے العریش آئے۔

ہزاروں فلسطینی بچے تعلیم سے محروم
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد 14 ہزار سے زیادہ فلسطینی اسکول جانے کی عمر کے بچے مصر منتقل ہوچکے ہیں۔
ان میں سے کئی خاندانوں کے لیے آن لائن تعلیم بھی آسان نہیں، کیونکہ انٹرنیٹ اور الیکٹرانک آلات کے اخراجات، بڑھتی مہنگائی اور مصر میں قانونی حیثیت سے متعلق غیر یقینی صورتحال ان کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے۔
دوسری جانب غزہ میں جنگ نے تعلیمی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق غزہ کے تقریباً 98 فیصد اسکول نقصان کا شکار ہوچکے ہیں یا مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔

کھوئی ہوئی نسل‘ کا خدشہ
جنگ کے طویل عرصے کے باعث غزہ کے تقریباً 6 لاکھ 58 ہزار اسکول جانے کی عمر کے بچوں کی معمول کی تعلیم دو سے زائد تعلیمی سالوں سے شدید متاثر ہوئی ہے۔ امدادی ادارے بارہا خبردار کرچکے ہیں کہ تعلیمی خلاء بچوں کی ایک پوری نسل کو متاثر کرسکتا ہے۔
ہدیل زروب کا قائم کردہ اسکول صرف کتابیں پڑھانے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد بچوں کو جنگ اور نقل مکانی کے صدمے سے نکلنے میں مدد دینا بھی ہے۔
اسکول کے ایک استاد حامد ابو داہر کے مطابق اساتذہ مل کر بچوں کو وہ تعلیمی ماحول واپس دینے کی کوشش کررہے ہیں جو جنگ کے باعث ان سے چھن گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بچے مستقبل میں واپس غزہ جاتے ہیں تو اسکول کا ماحول ان کے لیے اجنبی نہیں ہوگا بلکہ وہ دوبارہ تعلیم اور اسکول کی زندگی سے جڑنے کے تجربے سے واقف ہوں گے۔


