واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی نگرانی کی اہم ذمہ داری قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جے کلیٹن کو سونپ دی، جو پہلے ہی امریکا کے اعلیٰ ترین انٹیلی جنس عہدیدار کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
جے کلیٹن کا شمار ٹرمپ کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں ہوتا ہے اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ بڑے کاروباری رہنماؤں میں بھی ان کی ساکھ اچھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی تقرری سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو روکنے کے بجائے اسے آگے بڑھانے پر توجہ برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
سرمایہ کاری کے شعبے کے ماہر ڈین آئیوز کے مطابق جے کلیٹن ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم اثاثہ ہیں کیونکہ وہ ٹیکنالوجی کے بڑے رہنماؤں اور حکومتی حلقوں، دونوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
ٹرمپ سے پرانی قربت
جے کلیٹن نے عملی سیاست کا آغاز اس وقت کیا جب ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران 2017 میں انہیں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کا سربراہ مقرر کیا۔
اس سے قبل کلیٹن معروف امریکی قانونی فرم سلیوان اینڈ کروم ویل میں طویل عرصے تک وال اسٹریٹ کے وکیل رہے، جہاں انہوں نے 2008 کے مالیاتی بحران کے دوران گولڈمین سیکس سمیت بڑے مالیاتی اداروں کی نمائندگی کی۔
بعد میں انہوں نے ٹرمپ کی دوسری حکومت میں نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ کے امریکی اٹارنی کے دفتر کی قیادت بھی کی۔ جولائی میں امریکی سینیٹ نے انہیں قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی منظوری دی۔
ٹیکنالوجی کا تجربہ محدود، حکومتی تجربہ وسیع
جے کلیٹن کا براہ راست ٹیکنالوجی کے شعبے میں کوئی طویل تجربہ نہیں، تاہم ان کے پاس انجینئرنگ، قانون اور معاشیات کی تعلیم موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وہ ٹیکنالوجی کے سابق اے آئی نگران ڈیوڈ سیکس جتنی گہری ٹیکنالوجی پس منظر نہیں رکھتے، لیکن امریکی حکومت کے مختلف اداروں میں کام کرنے اور پیچیدہ حکومتی نظام کو سمجھنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بیک وقت قومی انٹیلی جنس اور اے آئی کی ذمہ داریاں سنبھالنا کلیٹن کے لیے بڑا چیلنج ہوگا، تاہم ٹرمپ اپنی دوسری مدت میں کئی اہم عہدیداروں کو ایک سے زیادہ ذمہ داریاں سونپ چکے ہیں۔
اے آئی ، قومی سلامتی اور چین کا مقابلہ
کلیٹن کو اے آئی کی ذمہ داری دینے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مصنوعی ذہانت کو صرف کاروباری یا ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں سمجھ رہی بلکہ اسے قومی سلامتی اور چین کے ساتھ عالمی مسابقت سے بھی جوڑ رہی ہے۔
قومی سلامتی کے ماہرین کے مطابق اے آئی سائبر سیکیورٹی کے لیے نئے خطرات پیدا کرسکتی ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی میں برتری امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
واشنگٹن کے ٹیکنالوجی حلقوں نے کلیٹن کی تقرری کا عمومی طور پر خیرمقدم کیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سے کسی بڑی نئی ریگولیٹری مہم کی فوری توقع نہیں کی جارہی۔
ان کے مطابق اگر کلیٹن مختلف حکومتی اداروں کی اے آئی پالیسی میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور صنعت کے لیے واضح قواعد سامنے لانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اسے بڑی پیش رفت تصور کیا جائے گا۔
دوسری جانب ٹرمپ کی اے آئی پالیسی پر سابق اے آئی نگران ڈیوڈ سیکس کے ساتھ ساتھ این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ، میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ اور دیگر ٹیک رہنماؤں کا اثر بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
کلیٹن نے ایسے وقت میں اے آئی کی نئی ذمہ داری سنبھالی ہے جب ٹیک کمپنیوں کے سربراہان نے وائٹ ہاؤس میں اپنے اے آئی ماڈلز کی نگرانی اور خود احتسابی سے متعلق ایک معاہدے پر بھی اتفاق کیا ہے۔


