کراچی: پاکستان کی سابق فاسٹ بولر کائنات امتیاز نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہتے ہوئے میچ ریفری کے طور پر نئی ذمہ داری سنبھالنے کا فیصلہ کرلیا۔
کائنات امتیاز نے 13 سالہ بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کے دوران پاکستان کی نمائندگی کی۔ دائیں ہاتھ کی فاسٹ بولر نے قومی ٹیم کی جانب سے 19 ایک روزہ اور 21 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے۔
انہوں نے اکتوبر 2010 میں جنوبی افریقہ کے خلاف پوچیف اسٹروم میں ٹی ٹوئنٹی میچ سے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا، جبکہ اگلے سال آئرلینڈ کے خلاف فتح اللہ میں پہلا ون ڈے کھیلا۔ ون ڈے کرکٹ میں کائنات امتیاز نے 10 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ان کے نام 8 وکٹیں رہیں۔
کائنات امتیاز پاکستان کی ان ٹیموں کا بھی حصہ رہیں جنہوں نے 2010 اور 2014 کے ایشین گیمز میں بالترتیب چین اور جنوبی کوریا میں گولڈ میڈلز اپنے نام کیے۔ وہ 2017 ورلڈ کپ اور 2022 کامن ویلتھ گیمز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں۔
قومی ٹیم کے لیے ان کا آخری ون ڈے میچ جنوری 2023 میں آسٹریلیا کے خلاف گابا میں ہوا، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں آخری بار وہ 2022 ایشیا کپ میں تھائی لینڈ کے خلاف سلہٹ کے میدان میں ایکشن میں نظر آئیں۔
کرکٹ سے وقفے کے دوران کائنات امتیاز نے بطور براڈکاسٹر بھی اپنی خدمات انجام دیں اور مختلف ملکی و بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں پریزنٹیشن اور کمنٹری سے وابستہ رہیں۔ اب انہوں نے اپنی والدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میچ آفیشل بننے کا فیصلہ کیا ہے۔
کائنات امتیاز کی والدہ سلیمہ امتیاز پاکستان کی پہلی خاتون امپائر ہیں جو آئی سی سی کے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ پینل کا حصہ بنیں۔ وہ خواتین کے 9 ون ڈے اور 69 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں امپائرنگ کرچکی ہیں۔
کائنات امتیاز نے حال ہی میں کراچی میں اگست اور ستمبر کے دوران کھیلے گئے پی سی بی نیشنل ویمنز انڈر 19 ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں میچ آفیشل کی حیثیت سے ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔


