ناروے کی حکومت نے کیمرا نصب اسمارٹ چشموں کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ناوریجین حکومت کی جانب سے اے آئی اسمارٹ گلاسز پر مجوزہ پابندی کا مقصد لوگوں کو ان کی اجازت کے بغیر تصویر یا ویڈیو بنائے جانے سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ حکومت کے مطابق ایسا معاشرہ قابل قبول نہیں جہاں شہریوں کو ہر وقت یہ خدشہ لاحق ہو کہ انہیں ان کی لاعلمی میں ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت کیمرا والے اسمارٹ چشموں کے استعمال پر پارکس، ساحلوں، عجائب گھروں، شاپنگ سینٹرز، اسکولوں، ڈے کیئر مراکز، طبی مراکز، جم اور عوامی تقریبات جیسے مقامات پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
تاہم ناروے حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اسمارٹ چشموں پر مکمل یا ملک گیر پابندی عائد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ مجوزہ قانون مخصوص عوامی اور حساس مقامات پر کیمرا ریکارڈنگ کو محدود کرنے سے متعلق ہوگا۔
ناروے کی حکومت کو قانون منظور کرانے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بل جلد از جلد پارلیمنٹ میں پیش کرے گی، جبکہ ایک ماہرین کا گروپ اس معاملے پر مستقل قواعد و ضوابط تیار کرے گا۔
میٹا کے اسمارٹ چشمے بھی زیرِ بحث
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میٹا کے اسمارٹ چشمے، خصوصاً رے بین اور اوکلے برانڈز کے کیمرا والے ماڈلز، یورپ میں پرائیویسی کے حوالے سے بحث کا مرکز بن رہے ہیں۔
فرانس میں بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ای -انفانس کے مطابق گزشتہ ماہ اسے ایسی تقریباً 20 شکایات موصول ہوئیں جن میں خواتین کو مبینہ طور پر ان کی رضامندی کے بغیر فلمایا گیا۔ زیادہ تر واقعات میں میٹا کے اسمارٹ چشموں کے استعمال کا ذکر کیا گیا۔
ان میں سے بعض ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی شیئر ہوئیں، جس کے بعد متاثرہ افراد کو مذاق اور نفرت انگیز پیغامات کا سامنا کرنا پڑا۔ معاملے پر پیرس کے سرکاری پراسیکیوٹر نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں پہلے ہی کیمرا والے چشموں کے استعمال پر اسکولوں میں پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین اور برطانیہ میں بھی اس ٹیکنالوجی کے لیے مزید سخت پرائیویسی قوانین کا مطالبہ ہے جو تصویر یا ویڈیو بناتے وقت روشن ہوتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس لائٹ کو کیمرے زور پکڑ رہا ہے۔
میٹا کا مؤقف ہے کہ اس کے اسمارٹ چشموں میں ایک ایل ای ڈی لائٹ موجود ہوتی ہے جو تصویر یا ویڈیو بناتے وقت روشن ہوتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس لائٹ کو کیمرے کو فعال رکھتے ہوئے بند نہیں کیا جا سکتا۔
یوں اسمارٹ چشموں کی ٹیکنالوجی جہاں ہاتھوں کے بغیر تصویر اور ویڈیو بنانے کی سہولت فراہم کر رہی ہے، وہیں رضامندی، خفیہ ریکارڈنگ اور شہریوں کی پرائیویسی سے متعلق سوالات بھی تیزی سے اہم ہوتے جا رہے ہیں۔


