بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں کاؤنٹر انٹیلی جنس پولیس نے بھارتی بحریہ کے ایک 31 سالہ اہلکار کو پاکستان کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ اہلکار نے بحریہ سے متعلق حساس معلومات ایک ایسی خاتون سے شیئر کیں جس کے بارے میں تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ اس کے روابط پاکستانی خفیہ سروس سے ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار اہلکار کی شناخت پردیپ مکھرجی کے نام سے ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ مبینہ آن لائن ہنی ٹریپ کا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے ذریعے پہلے دوستی کی اور پھرحساس معلومات حاصل کی گئیں۔
بحری اڈے اور جنگی جہازوں کی معلومات شیئر کرنے کا الزام
بھارتی میڈیا کے مطابق پردیپ مکھرجی کا تعلق مغربی بنگال سے ہے اور وہ 2014 میں بھارتی بحریہ میں شامل ہوئے تھے۔ وہ وشاکھاپٹنم میں قائم ایسٹرن نیول کمانڈ میں سیلر کے طور پر تعینات رہے ہیں۔
گرفتاری کے وقت وہ آندھرا پردیش کے کوئمبٹور میں واقع آئی این ایس اگرنی میں مینجمنٹ ڈیولپمنٹ کورس کر رہے تھے، جو انہوں نے مبینہ طور پر گرفتاری سے تقریباً ایک ہفتہ قبل شروع کیا تھا۔
تفتیش کاروں کے مطابق ایک خاتون نے چند ماہ قبل سوشل میڈیا کے ذریعے پردیپ سے رابطہ کیا۔ دوستی بڑھنے کے بعد مبینہ طور پر بحری جہازوں کی نقل و حرکت، وشاکھاپٹنم نیول بیس سے متعلق تفصیلات اور آپریشنل سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔
پولیس اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اہلکار نے مشتبہ خاتون کو کتنی اور کس نوعیت کی حساس معلومات فراہم کیں اور آیا اس کے بدلے اسے کسی قسم کی رقم یا مالی فائدہ بھی دیا گیا یا نہیں۔
سوشل میڈیا سرگرمی سے شک پیدا ہوا
بھارتی کاؤنٹر انٹیلی جنس حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر کچھ مشتبہ سرگرمیوں کے بعد پردیپ کی نگرانی شروع کی گئی۔ مزید تحقیقات کے دوران معلومات شیئر کیے جانے کا شبہ مضبوط ہونے پر بحریہ سے گرفتاری کی منظوری حاصل کی گئی۔
پولیس نے ہفتے کے روز انہیں حراست میں لیا، مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بعد مزید تفتیش کے لیے انہیں کاؤنٹر انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز وجے واڑہ منتقل کیا گیا۔
آسام میں بھی دو گرفتاریاں
دوسری جانب بھارتی ریاست آسام میں بھی پولیس نے دو افراد کو پاکستان کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ گرفتار افراد میں سے ایک ابھیشیک کمار سنگھ کو سابق فوجی بتایا گیا ہے۔
بھارتی حکام ان معاملات کو مبینہ جاسوسی نیٹ ورک کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، تاہم ان تمام الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ پاکستان کی جانب سے بھی تاحال ان گرفتاریوں اور بھارتی پولیس کے دعووں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
معاملہ ابھی تفتیش کے مرحلے میں ہے، اس لیے گرفتار افراد کے خلاف عائد الزامات کو عدالت میں ثابت ہونا باقی ہے۔


