بالی ووڈ اداکار سنجے دت اپنے حالیہ بیان کے باعث تنازع کا شکار ہوگئے ہیں، تاہم اب انہوں نے سوشل میڈیا پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ پروگرام میزبان شیکھر سمن بھی سنجے دت کے دفاع میں سامنے آگئے ہیں۔
یہ تنازع بھارتی اداکار شیکھر سمن کے آن لائن ٹاک شو شیکھر ٹونائٹ میں سنجے دت کی شرکت کے بعد شروع ہوا۔
پروگرام میں انہوں نے بھارت کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے لوگ محبت کرنے والے اور کشادہ دل ہیں، لیکن انہیں اب بھارت میں پہلے جیسا امن محسوس نہیں ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دعا کرتے ہیں کہ وہ دن واپس آئیں۔
بیان پر سوشل میڈیا ردعمل
سنجے دت کا یہ تبصرہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا اور ایک طبقے نے ان پر تنقید شروع کردی۔ تنازع اس وقت مزید بڑھا جب پروگرام میں اداکار نے اپنے مشہور کردار منا بھائی کے انداز میں طنزیہ گفتگو کی اور چند منٹ کے لیے خود کو بھارتی وزیراعظم تصور کرتے ہوئے فرضی خطاب بھی کیا۔
سنجے دت کی وضاحت
شدید ردعمل کے بعد سنجے دت نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی فرد، برادری یا ادارے کے جذبات مجروح کرنا نہیں تھا۔
اداکار کے مطابق پروگرام میں ہونے والی گفتگو اسکرپٹڈ، ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں تھی۔ انہوں نے اسے اپنی فلموں کے گاندھی گری والے انداز سے جوڑا اور کہا کہ اس کا مقصد محبت، اتحاد، گرمجوشی اور خیر سگالی کا پیغام دینا تھا۔ ان کے بقول ان کے الفاظ کو اصل تناظر سے باہر سمجھا گیا۔
شیکھر سمن بھی دفاع میں آگئے
تازہ پیش رفت میں شیکھر سمن نے سنجے دت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداکار کا ملک اور ہم وطنوں کے لیے بہت احترام ہے اور ان کی بات کو غلط انداز میں نہیں لیا جانا چاہیے۔
سمن نے سنجے دت کو برسوں سے جاننے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں اور پروگرام میں کہی گئی بات کسی کی توہین یا دل آزاری کے ارادے سے نہیں تھی۔


