وزیراعظم کی مذاکراتی پیشکش پر پی ٹی آئی کا جواب

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی نئی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کا سلسلہ منقطع ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔ تاہم انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات کو لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرنے سے مشروط نہ کیا جائے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جمعہ اور ہفتے کو مذاکرات کے دو ادوار ہوئے تھے، تاہم ان میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ شروع کر دیا۔

اب وزیراعظم شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ بات چیت جاری رکھنے کے لیے پہلے سے کوئی شرط عائد نہیں ہونی چاہیے۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ’آج نہیں تو کل‘ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا اور کسی قابلِ عمل حل تک پہنچنے کے لیے بات چیت جاری رہنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں تعطل نہیں آنا چاہیے تھا اور حکومت و اپوزیشن کو مسلسل اور باقاعدگی سے بیٹھ کر اپنے اختلافات پر بات کرنی چاہیے تھی۔ مذاکرات کو لانگ مارچ ختم کرنے سے مشروط نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی بغیر کسی پیشگی شرط کے مذاکراتی عمل میں شریک ہوئی تھی اور حکومت کو بھی اسی انداز میں بات چیت آگے بڑھانی چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف پہلے ہی واضح کر چکی تھی کہ وہ محض فوٹو سیشن کے لیے مذاکرات میں شریک نہیں ہوگی بلکہ سنجیدہ، بامقصد اور نتیجہ خیز بات چیت چاہتی ہے۔

ان کے مطابق حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنے تحفظات اور خدشات مذاکرات کی میز پر رکھنے چاہیے تھے اور متعدد نشستوں کے ذریعے ان معاملات پر تفصیلی گفتگو ہونی چاہیے تھی۔

پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل کو وقت دینا ضروری تھا کیونکہ مسلسل بات چیت سے ہی کسی حل تک پہنچنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ مذاکرات کسی ایک شخصیت یا ایک نشست تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ حکومت اور اپوزیشن کو اجتماعی طور پر سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔