جرمن جاسوس ایجنسی کا سابق سربراہ غیر ملکی طاقتوں کو اہم معلومات دینے کے الزام میں گرفتار

برلن: جرمنی کے سابق اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار آگسٹ ہاننگ کو غیر ملکی طاقتوں کو حساس معلومات منتقل کرنے کے شبہے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ہاننگ 1998 سے 2005 تک جرمنی کی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی بی این ڈی کے سربراہ رہے تھے۔

وفاقی استغاثہ کے مطابق 82 سالہ ہاننگ پر جاسوسی، غداری اور غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کے لیے کام کرنے کے الزامات ہیں۔ حکام نے یہ نہیں بتایا کہ مبینہ طور پر کن ممالک کو معلومات فراہم کی گئیں، تاہم فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق معاملے میں روس شامل نہیں ہے۔

ہاننگ کے سابق چیف آف اسٹاف، جن کی شناخت جزوی طور پر مانفریڈ ڈی کے نام سے ظاہر کی گئی ہے، کو بھی غداری میں معاونت کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ہزاروں دستاویزات تک رسائی کا الزام

تفتیش کاروں کے مطابق مانفریڈ ڈی نے کئی برسوں کے دوران ہاننگ کو تقریباً 2 ہزار دستاویزات فراہم کیں، جن میں بڑی تعداد خفیہ نوعیت کی تھی۔ الزام ہے کہ ہاننگ نے ان معلومات کو اپنی نجی مشاورتی سرگرمیوں میں استعمال کیا اور ایک غیر ملکی انٹیلی جنس افسر کے لیے تجزیہ تیار کیا۔

استغاثہ کے مطابق ہاننگ ایک دوسری غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے نمائندے سے بھی قریبی رابطے میں رہے اور کئی برس تک اسے سیاسی نوعیت کی معلومات فراہم کرتے رہے، جن میں بعض معلومات مبینہ طور پر مانفریڈ ڈی سے حاصل کردہ مواد پر مبنی تھیں۔

جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے مطابق فراہم کردہ معلومات میں ایران کے جوہری پروگرام اور روسی فوج سے متعلق مواد بھی شامل تھا۔ بعض معلومات مبینہ طور پر جرمنی کی شراکت دار غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے حاصل ہوئی تھیں۔

انٹیلی جنس اصلاحات کے دوران گرفتاری

ہاننگ کی گرفتاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جرمنی اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مزید اختیارات دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ حکومت نے گزشتہ ماہ خفیہ اداروں میں بڑی اصلاحات کی منظوری دی تھی، جن کا مقصد بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات، خصوصاً روس سے متعلق خدشات، سے نمٹنے کے لیے اداروں کی صلاحیت بڑھانا ہے۔

جرمنی کی بی این ڈی اور داخلی انٹیلی جنس ایجنسی بی ایف وی کو روایتی طور پر بعض دیگر ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مقابلے میں محدود اختیارات حاصل رہے ہیں۔ مجوزہ اصلاحات کو اگلے سال کے آغاز میں پارلیمان سے منظوری ملنے کی توقع ہے۔

پارلیمانی انٹیلی جنس نگرانی کمیٹی کے سربراہ مارک ہینرش مین نے کہا کہ جرمنی ریاستی رازوں سے غداری برداشت نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو یہ ہاننگ کی سرکاری ذمہ داریوں سے سنگین انحراف ہوگا۔

جرمنی میں غداری کے جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہو سکتی ہے۔

موجودہ بی این ڈی سربراہ کا ردعمل

موجودہ بی این ڈی سربراہ مارٹن ییگر نے بتایا کہ ادارے نے وفاقی استغاثہ کے تحقیقات سنبھالنے سے پہلے ہاننگ کے معاملے میں اندرونی طور پر وسیع تحقیقات کیں۔

ییگر نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں ادارے اور ان کے لیے کوئی سمجھوتا ممکن نہیں، تاہم ان کے مطابق یہ واقعہ ان کی ترجیحات یا بی این ڈی کے اہداف پر سوالیہ نشان نہیں بنتا۔

اپوزیشن گرین پارٹی کے رکن پارلیمان کونسٹنٹن فان نوٹس نے الزامات کو سنگین اور انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے ممکنہ نقصان کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی وسیع نجی لابنگ سرگرمیاں غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کے لیے ممکنہ راستہ بن سکتی ہیں۔

ہاننگ کے خلاف موجودہ تحقیقات کا سراغ ایک الگ مقدمے سے ملا۔ وہ جرمنی کی ایک اسٹیک ہاؤس چین کی وارث کرسٹینا بلوک کے بچوں کے مبینہ اغوا کے مقدمے سے بھی منسلک رہے ہیں۔

اس مقدمے میں ہاننگ اور ایک ریٹائرڈ پولیس افسر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے بلوک سے ایک لاکھ یورو سے زیادہ معاوضہ وصول کیا تاکہ ڈنمارک میں رہنے والے اس کے بچوں کو ان کے سابق شوہر سے واپس لایا جا سکے۔

اسی تحقیقات کے دوران ستمبر 2025 میں ہاننگ کی جائیداد کی تلاشی لی گئی، جس کے نتیجے میں اب سامنے آنے والی خفیہ معلومات اور جاسوسی کے الزامات کی تحقیقات شروع ہوئیں۔

ہاننگ کے خلاف عائد الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے، تاہم ان کی گرفتاری نے جرمنی کے انٹیلی جنس نظام کی نگرانی، سابق اعلیٰ عہدیداروں کی نجی سرگرمیوں اور حساس سرکاری معلومات کے تحفظ پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔