کراچی: معروف اداکارہ کبریٰ خان نے شوبز انڈسٹری میں خوبصورتی کے غیر حقیقی اور مصنوعی معیار پر کھل کر بات کر دی ہے۔
حال ہی میں ملیحہ رحمان کو دیے گئے انٹرویو گلوس ایٹسیٹرا میں کبریٰ نے بتایا کہ ڈرامہ ڈاکٹر بہو میں شجاع اسد کے مقابل کاسٹ ہونے کے بعد انہیں شدید باڈی شیمنگ اور ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے کہا کہ وہ اپنے ساتھی اداکار سے عمر میں بڑی اور جسامت میں بھاری لگتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری انڈسٹری اور کلچر نے خوبصورتی کا ایک سانچہ بنا دیا ہے جو بہت ہی چھوٹا ہے، اس میں ہر کوئی فٹ نہیں آ سکتا، اور بدقسمتی سے میں ان میں سے ہوں جو اس میں فٹ نہیں آتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ہاں یہ تاثر بنا دیا گیا ہے کہ خوبصورت نظر آنے کے لیے لڑکی کا گورا ہونا، زیرو سائز ہونا، لمبا قد اور لمبے بال ہونا ضروری ہے، اگر آپ اس سانچے میں نہیں تو آپ اچھی نہیں ہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ شروع میں وہ ان باتوں سے بہت متاثر ہوتی تھیں لیکن اب انہوں نے وضاحتیں دینا چھوڑ دیا ہے۔ میں دیوار سے بات کرنے جیسا ہے، اس لیے اب میں جواب نہیں دیتی، چاہے اندر سے تکلیف ہوتی ہے۔
کبریٰ نے یہ بھی شکوہ کیا کہ لوگ صرف تنقید ہی نہیں کرتے بلکہ ٹرینڈ کے طور پر دوسروں کی تذلیل میں شامل ہو جاتے ہیں، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے حق میں بنائی گئی پوسٹس بھی ان کی جسامت کو ہی ڈسکس کر کے انگیجمنٹ لے رہی ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صحت مند رہنا اور اپنا کام ایمانداری سے کرنا سلم نظر آنے سے زیادہ اہم ہے، اور وہ مصنوعی خوبصورتی کے بجائے خود کو قبول کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔


