خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے میں کوئی رکاوٹ نہیں: خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حکومت گورنر راج کے نفاذ سمیت تمام آئینی اور قانونی آپشنز پر غور کر رہی ہے، تاہم گورنر راج آخری آپشن ہوگا اور حکومت کی کوشش ہے کہ اس مرحلے تک نہ پہنچنا پڑے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر کوئی راستہ باقی نہ رہا تو دارالحکومت کو کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ ہر دو تین ماہ بعد لشکر کشی کے ذریعے اسلام آباد پر حملے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ اگر دارالحکومت پر حملہ کیا گیا تو حکومت کو پاکستان کے دارالحکومت کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے۔ گورنر راج سے متعلق حتمی فیصلہ حالات اور دستیاب آپشنز کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت مذاکرات کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتی، وزیراعظم نے اپوزیشن اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ پی ٹی آئی بغیر کسی شرط کے مذاکرات کے لیے آئے تو حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کبھی شرائط کے ساتھ شروع نہیں ہوتے، مشکل مذاکرات اگر پہلے ہی شرائط سے باندھ دیے جائیں تو وہ پہلے لمحے ہی ناکامی کی طرف چلے جاتے ہیں۔

خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور طالبان کے درمیان روابط کے حوالے سے شواہد موجود ہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات کی ناکامی میں اسلام آباد کی سیاست اور سیاسی ساکھ برقرار رکھنے کی کوششیں بھی ایک اہم عنصر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی قید شخص کی خوشی یا مرضی کے لیے پاکستان کا شیرازہ بکھیرنا قابل قبول نہیں۔ سہیل آفریدی اپنی وزارتِ اعلیٰ بچانے اور سیاسی نمبر ٹانگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پنجاب سے بڑی تعداد میں ارکان اسمبلی موجود ہیں لیکن احتجاج میں ان میں سے کوئی نظر نہیں آرہا، سیالکوٹ سے بھی پی ٹی آئی کا کوئی شخص احتجاج میں آیا ہو تو بتایا جائے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں، جبکہ قومی اسمبلی میں موجود پی ٹی آئی رہنما اور اتحادی بھی کسی قابل قبول سیاسی حل کے خواہاں ہیں۔ ایسا حل ہونا چاہیے جو ملک اور تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنی کرسیاں بچانے اور دستیاب وسائل پر قبضے کی لڑائی سے سیاسی اختلافات شدت اختیار کرتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے مطالبے پر لانگ مارچ کے فیصلے کے بارے میں انہیں مکمل معلومات نہیں۔

وزیر دفاع نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسے ایک سیاسی جماعت کا کردار ادا کرنا چاہیے، دہشت گرد جماعت کا نہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی عوام میں اتنا سیاسی شعور موجود ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کو سمجھ سکتے ہیں۔