ایلون مسک کی دولت ایک ہزار ارب ڈالر سے بھی بڑھ گئی

نیویارک : ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے ایک بار پھر دنیا کے واحد ٹریلینئر ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔

بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق 5 اکتوبر کو ایلون مسک کی مجموعی دولت بڑھ کر 1.04 کھرب ڈالر (ایک ہزار 40 ارب ڈالر)تک پہنچ گئی۔

الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر خلائی راکٹوں اور مصنوعی ذہانت تک مختلف شعبوں میں کاروبار رکھنے والے ایلون مسک اس سال جون میں پہلی مرتبہ ٹریلینئر بنے تھے، تاہم بعد میں ان کی کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں کمی کے باعث وہ یہ اعزاز برقرار نہ رکھ سکے۔

اب ایک بار پھر ٹیسلا اور اسپیس ایکس میں ان کی حصص کی قدر میں اضافے نے ان کی دولت کو نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز سے اسپیس ایکس کے شیئرز میں تقریباً 13 فیصد جب کہ ٹیسلا کے حصص میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ٹیسلا نے گزشتہ ہفتے رواں سال کی تیسری سہ ماہی کی فروخت کے اعداد و شمار جاری کیے، جو مارکیٹ کی توقعات سے بہتر رہے۔ مسک کی مجموعی دولت کا 98 فیصد سے زیادہ حصہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس میں ان کی ملکیت سے منسلک ہے، اس لیے دونوں کمپنیوں کے حصص میں معمولی اتار چڑھاؤ بھی ان کی ذاتی دولت پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران مسک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، خودکار ڈرائیونگ اور روبوٹکس پر بھی خاص توجہ مرکوز کی ہے، جس سے ان کے کاروباری مستقبل کے بارے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار ہے۔

اسپیس ایکس کے شیئرز نے لسٹنگ کے بعد ابتدائی طور پر غیر معمولی تیزی دکھائی۔ اسپیس ایکس کی مارکیٹ ویلیو ایمازون اور مائیکرو سافٹ جیسی بڑی ٹیک کمپنیوں سے بھی زیادہ ہو گئی تھی۔ تاہم سرمایہ کاروں کے خدشات سامنے آنے کے بعد اسپیس ایکس کے شیئرز میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال اسپیس ایکس کو تقریباً 4.9 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا، تاہم امریکی خلائی مشنز میں کمپنی کے اہم کردار اور مستقبل کی خلائی معیشت میں اس کے امکانات اسے سرمایہ کاروں کے لیے اب بھی اہم بناتے ہیں۔