امریکا میں وسط مدتی انتخابات: صحت اور مہنگائی امریکی ووٹرز کا اہم ترین مسئلہ

وارن، اوہائیو: امریکا میں بڑھتی مہنگائی، پٹرول کی بلند قیمتوں اور صحت کے بڑھتے اخراجات نے متوسط اور محنت کش طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اوہائیو میں یہ معاشی دباؤ سیاسی بحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی عوام کیلئے معاشی مشکلات نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابی ترجیحات میں بھی نمایاں ہیں۔ جون میں کیے گئے پیو سروے کے مطابق تقریباً 29 فیصد امریکیوں نے کانگریس کے امیدواروں سے بحث کیلئے فوری طور پر کسی نہ کسی معاشی مسئلے کا ذکر کیا۔

ایران کے ساتھ لڑائی نے بھی توانائی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد امریکا میں عام پٹرول کی اوسط قیمت 45 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 4.37 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جس سے گاڑی استعمال کرنے والے گھرانوں کے ماہانہ بجٹ مزید متاثر ہوئے۔

امریکی ریاست اوہائیو میں ڈیموکریٹ امیدوار اور سابق سینیٹر شیروڈ براؤن مہنگائی، جنگ کے معاشی اثرات اور روزگار کے مسائل کو اپنی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنا رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ محنت کش طبقہ جنگ اور اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات نہیں چاہتا۔

دوسری جانب صنعتی علاقوں میں روزگار کا مسئلہ بھی بدستور موجود ہے۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ چھوٹی آٹو پارٹس کمپنیوں میں ملازمتوں میں کمی اور بعض یونٹس کی بندش نے کارکنوں کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

مہاننگ ویلی کبھی امریکا کی اسٹیل صنعت کا بڑا مرکز سمجھی جاتی تھی، لیکن گزشتہ دہائیوں میں یہ صنعتی زوال کا شکار ہوئی۔ مقامی ریٹائرڈ اسٹیل ورکرز کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں مینوفیکچرنگ ملازمتوں کی ضرورت آج بھی موجود ہے، تاہم پہلے کی طرح روزگار کے مواقع دستیاب نہیں رہے۔ کئی حلقوں کا جھکاؤ اب بھی ریپبلکن پارٹی کی جانب ہے، تاہم معاشی دباؤ نے بعض انتخابی مقابلوں کو زیادہ اہم بنا دیا ہے۔

امریکی ماہرین کے مطابق ایندھن، اشیائے خورونوش، بجلی اور صحت کے اخراجات جیسے مسائل اس بات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں کہ ووٹر وسط مدتی انتخابات میں اپنی ترجیحات کس طرح طے کرتے ہیں۔

اوہائیو کے صنعتی علاقوں میں اس بار انتخابی بحث صرف سیاسی نعروں تک محدود نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات، صحت کی سہولیات، روزگار اور مینوفیکچرنگ کے مستقبل جیسے عملی مسائل بھی ووٹرز کی گفتگو کا مرکز بن گئے ہیں۔