واشنگٹن: امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہگستھ کی ایک فوجی تقریب میں گفتگو کے دوران متعدد مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے ان کی تقریر میں خلل ڈال دیا، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو ہال سے باہر نکال دیا۔
یہ واقعہ 14 اکتوبر کو واشنگٹن ڈی سی میں ایسوسی ایشن آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس آرمی (اے یو ایس اے) کے سالانہ اجلاس اور نمائش کے دوران پیش آیا۔ ہگستھ تقریب میں جدید جنگی ٹیکنالوجی اور خودکار جنگی نظام کے مستقبل پر گفتگو کررہے تھے کہ مظاہرین نے ان کی گفتگو میں مداخلت شروع کردی۔
مظاہرین کی جانب سے ہگستھ کے خلاف سخت نعرے لگائے گئے۔ ایک احتجاج کرنے والے شخص نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’آپ جنگجو نہیں، بزدل ہیں۔‘‘ احتجاج کے باعث تقریب میں کچھ دیر کے لیے خلل پڑا۔
سیکیورٹی اہلکاروں نے مداخلت کرتے ہوئے مظاہرین کو ایک ایک کرکے تقریب سے باہر نکال دیا۔ احتجاج کے باوجود ہگستھ نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور تقریب میں موجود افراد سے امریکی فوج اور مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجی سے متعلق امور پر بات چیت کی۔
اےیو ایس اے کا سالانہ اجلاس امریکی فوج سے متعلق ایک اہم دفاعی اجتماع ہے، جس میں فوجی حکام، دفاعی صنعت سے وابستہ افراد اور دیگر متعلقہ حلقے شرکت کرتے ہیں۔ اس موقع پر جدید دفاعی ٹیکنالوجی، عسکری حکمتِ عملی اور مستقبل کی جنگی ضروریات پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔
اس سال ہگستھ کی گفتگو میں خودکار جنگی نظام اور مستقبل کی جنگ میں ٹیکنالوجی کے کردار پر خاص توجہ رہی، تاہم احتجاج نے تقریب کے دوران سیاسی اور عوامی توجہ بھی حاصل کرلی۔


