واشنگٹن: امریکا کی 8 ریاستوں نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمات دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کمپنی کا چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی نوجوان صارفین، خصوصاً کم عمر افراد، کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ریاستی حکام نے کمپنی پر صارفین کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کا بھی الزام لگایا ہے۔
یہ مقدمات ایریزونا، آرکنساس، آئیڈاہو، آئیووا، کنساس، مونٹانا، نیبراسکا اور ویسٹ ورجینیا کی جانب سے ریاستی عدالتوں میں دائر کیے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ متعدد امریکی ریاستوں نے کسی اے آئی کمپنی کے خلاف اس نوعیت کی مربوط قانونی کارروائی کی ہے۔
ریاستی حکام کا مؤقف ہے کہ چیٹ جی پی ٹی بعض مواقع پر نوجوان صارفین کے ساتھ ایسے انداز میں گفتگو کرسکتا ہے جو نقصان دہ رویوں کو تقویت دینے کا باعث بنے۔ مقدمات میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ چیٹ بوٹ بعض خطرناک خیالات یا غلط تصورات کو تقویت دینے اور نقصان دہ رویوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتا ہے۔
مقدمات میں اوپن اے آئی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کم عمر صارفین کے لیے چیٹ جی پی ٹی کے حفاظتی نظام میں تبدیلیاں کی جائیں۔ ریاستیں مالی جرمانوں اور دیگر قانونی اقدامات کے ساتھ یہ بھی چاہتی ہیں کہ کمپنی اپنے اے آئی ماڈلز کی مزید ترقی اور آزمائش کے حوالے سے اضافی حفاظتی ضمانتیں فراہم کرے۔
ریاستی حکام کی جانب سے کم عمر صارفین کے تحفظ، عمر کی تصدیق، والدین کے کنٹرولز اور صارفین کی معلومات کے استعمال سے متعلق بھی مختلف مطالبات سامنے آئے ہیں۔ بعض مقدمات میں کمپنی سے نوجوان صارفین سے حاصل ہونے والے منافع اور مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر حاصل کیے گئے ڈیٹا سے متعلق اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ قانونی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اے آئی چیٹ بوٹس کے کم عمر صارفین پر اثرات کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ حال ہی میں ایک امریکی ادارے کی رپورٹ میں بھی نوجوانوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی کے حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
تاہم ان مقدمات میں عائد الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ اوپن اے آئی کو ان الزامات کا جواب دینے اور عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔


