آٹا، دال اور پیاز سمیت 23 لازمی اشیا مہنگی: وفاقی ادارہ شماریات

اسلام آباد: پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (وفاقی ادارہ شماریات) نے ہفتہ وار مہنگائی سے متعلق رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.04 فیصد کی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 11.38 فیصد رہی۔

رپورٹ کے مطابق، ایک ہفتے کے دوران 51 بنیادی اشیائے ضروریہ میں سے 23 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 7 اشیاء سستی ہوئیں، جبکہ باقی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ہفتہ وار مہنگائی میں معمولی کمی کے باوجود روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ادارہ شماریات کے مطابق، گزشتہ ہفتے مرغی کی قیمت میں 3.31 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ انڈے ایک فیصد مہنگے ہوئے۔دیگر مہنگی ہونے والی اشیاء میں دال ماش، دال مسور، لکڑی، چائے، دال چنا اور آٹا شامل ہیں۔

دال چنا کی قیمت میں 4.97 فیصد، آٹا 3.36 فیصد ، مرغی 3.31 فیصد ، دال ماش: 0.98 فیصد اور انڈے 1 فیصد مہنگے ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ہفتے بعض اشیائے خورونوش اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ٹماٹر کی قیمت میں 23.05 فیصد کمی ہوئی، جبکہ پیاز 4.90 فیصد اور کیلے 2.59 فیصد سستے ہوئے۔دیگر سستی ہونے والی اشیاء میں باسمتی ٹوٹا چاول، چینی، گڑ اور پیٹرول شامل ہیں۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال کے مقابلے میں بعض بنیادی اشیاء اور توانائی کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سالانہ بنیادوں پر پیاز کی قیمت میں 75.19 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گیس 68.95 فیصد مہنگی ہوئی۔ بجلی کے بنیادی نرخوں میں 58.59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اعدادوشمار کے مطابق، توانائی اور ایندھن کے نرخوں میں سالانہ اضافے کے ساتھ خوراک کی کئی اہم اشیاء بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں مہنگی ہیں۔

ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی میں 0.04 فیصد کی کمی ریکارڈ ہوئی، لیکن سالانہ شرح 11.38 فیصد رہی۔ اس کا مطلب ہے کہ ہفتے کے دوران قیمتوں کی مجموعی سطح میں معمولی کمی کے باوجود گزشتہ سال کے مقابلے میں مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔