اداکار عمران خان بھارت چھوڑنے کے نوٹس کے خلاف عدالتی جنگ کے لئے تیار

ممبئی: بالی ووڈ اداکار عمران خان کو مبینہ طور پر بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری کیے جانے کے معاملے پر فلمی دنیا میں ردعمل سامنے آنے لگا ہے۔ اداکارہ اور فلم ساز کرن راؤ نے سوشل میڈیا پر اس معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے عمران خان کی حمایت کی ہے، جبکہ اداکارہ صبا آزاد نے بھی نوٹس پر ناراضی ظاہر کی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عمران خان کو 15 اکتوبر کو ممبئی پولیس کی جانب سے نوٹس بھیجا گیا، جس میں انہیں 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اداکار چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔

عمران خان کے ماموں اور اداکار عامر خان کی سابق اہلیہ کرن راؤ نے انسٹاگرام اسٹوریز پر عمران خان کی ایک تصویر شیئر کی، جس میں وہ پولیس وین میں بیٹھے نظر آرہے ہیں۔ اس تصویر کے ساتھ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا، واہ… اب ممبئی پولیس؟

ان کی اس پوسٹ کو عمران خان کو جاری کیے گئے نوٹس پر سوال اٹھانے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اداکارہ سبا آزاد نے بھی نوٹس سے متعلق ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ معاملہ بالکل بے تکا ہے۔

عمران خان کو نوٹس کیوں جاری کیا گیا؟

عمران خان 10 اکتوبر کو ممبئی کے اگست کرانتی میدان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔ اس دوران پولیس نے انہیں اور دیگر مظاہرین کو حراست میں لیا تھا۔ اسی احتجاج میں عمران خان کی ساتھی لیکھا واشنگٹن اور ان کی کزن زین میری خان بھی موجود تھیں۔

بعد میں حکام کو معلوم ہوا کہ عمران خان کے پاس بھارتی شہریت کے بجائے اوورسیز سٹیزن شپ آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ ہے۔ اس کے بعد انہیں بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری کیے جانے کی خبر سامنے آئی۔

او سی آئی کارڈ بیرون ملک شہریت رکھنے والے اہل افراد کو بھارت میں رہنے اور بعض دیگر سہولیات سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتا ہے، لیکن یہ بھارتی شہریت کے مساوی نہیں ہوتا۔ عمران خان کے معاملے میں نوٹس کی مکمل قانونی بنیاد اور متعلقہ حکام کی تفصیلی وضاحت سامنے آنا اہم ہوگا۔

ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے عمران خان

عمران خان کی قانونی ٹیم کے مطابق، اداکار اس نوٹس کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ ان کے وکیل نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ اگلے ہفتے اپیل دائر کیے جانے کی توقع ہے۔

تاہم، نوٹس کو کن قانونی بنیادوں پر چیلنج کیا جائے گا، اس بارے میں تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ عدالت میں درخواست دائر ہونے اور متعلقہ حکام کا موقف سامنے آنے کے بعد معاملے کی قانونی صورت حال مزید واضح ہوسکے گی۔