پاکستان کا سعودی عرب کے دفاع کی ذمہ داریاں نبھانے کا اعلان

ریاض ایئرپورٹ حملے میں ایک پاکستانی جاں بحق اور 3 زخمی؛ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار، ایران کے خلاف محض الزامات پر تبصرہ نہیں کرسکتے

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ پاکستان بھارتی وزیر کے بیان کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور اپنی علاقائی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ 3 پاکستانی زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے یمن میں بھی ایک پاکستانی ڈرائیور کی ہلاکت ہوئی۔

سجاد حیدر خان کے مطابق، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کا حصہ ہے اور معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور پاکستان اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔

دفاعی معاہدے کے عملی پہلوؤں سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں مزید تفصیلات کے لیے آئی ایس پی آر اور ریاض میں متعلقہ ہیڈکوارٹرز سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایران کے خلاف الزامات پر تبصرہ نہیں کرسکتے

ایران سے متعلق سوالات کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایران کو برادر ملک سمجھتا ہے۔ پاکستان محض الزامات کی بنیاد پر ایران کے خلاف تبصرہ نہیں کرسکتا۔ پاکستان کا یمن کے معاملے پر مؤقف مسلسل اور واضح ہے اور اسلام آباد سمجھتا ہے کہ یمن کے مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایرانی قیادت پاکستان کی مفاہمتی کوششوں کو سراہتی ہے اور اس حوالے سے پاکستان کے کردار کی معترف ہے۔

کشمیر پر پاکستان کا مؤقف برقرار

ترجمان دفتر خارجہ نے جموں و کشمیر کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے 6 اگست کے اقدامات غیرقانونی اور یکطرفہ ہیں اور جموں و کشمیر آج بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ایک متنازع معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی حمایت

سجاد حیدر خان نے فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے فلسطینیوں کی اپنے وطن واپسی میں رکاوٹیں ڈالنے کی بھی مذمت کی۔

غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے میں 64 فیصد کمی

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان نے غیرقانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں، جن کے نتیجے میں یورپ کی جانب غیرقانونی ہجرت میں 64 فیصد کمی آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 13 اکتوبر کو نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی کمیشن کے مائیگریشن کمشنر میگنس برونر سے ملاقات کی تھی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان میں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے ای اٹیسٹیشن سروس شروع کی گئی ہے، جس کے ذریعے دستاویزات کی تصدیق کا عمل آسان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

دستاویزات کی تصدیق کے لیے قائم انکوائری کمیٹی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ کمیٹی وزارت خارجہ سے باہر کے افراد پر مشتمل ہے اور اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

اومان اور روس کے وزرائے خارجہ و داخلہ کے دورے

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے گزشتہ ہفتے کی سفارتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اومان کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا، جس کے دوران پاک عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا۔

ترجمان کے مطابق، پاکستان علاقائی صورت حال کے تناظر میں مختلف ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مالدیپ کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں مالدیپ کے صدر کے آئندہ دورۂ پاکستان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے مصری وزیر خارجہ سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ اس موقع پر بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گردی کے معاملے کو اجاگر کیا گیا۔

جوہری توانائی ایجنسی کی ٹیم کا دورہ مکمل

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی آئی پی اے ایس ٹیم نے پاکستان کا دورہ کامیابی سے مکمل کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطے اور سفارتی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

بریفنگ میں ترجمان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ، سعودی عرب کی علاقائی سلامتی کی حمایت، مسئلہ کشمیر کے حل اور فلسطینی عوام کے حقوق کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔