سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی اور سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ مولانا فضل الرحمان سیاسی قلابازیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ سول اور فوجی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے مثبت نتائج آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ فوجی فاؤنڈیشن نے 323 ارب روپے ٹیکس ادا کیا ہے۔ فوجی اداروں کی کارکردگی کا موازنہ سول اداروں سے کیا جائے تو فرق واضح نظر آتا ہے، کیونکہ متعدد سول ادارے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں اور پاکستان اسٹیل ملز بند ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر میاں نواز شریف بینکوں کی نجکاری نہ کرتے تو بینک دیوالیہ ہو جاتے۔ ان کے بقول، وزیراعظم شہباز شریف نے ایک درست ہم سفر کا کردار ادا کیا اور سول و فوجی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے ثمرات آنے والے دنوں میں دیکھنے کو ملیں گے۔
وزیر دفاع نے خیبر پختونخوا کی سیاسی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں صوبے میں ایک نئی تاریخ رقم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں گورنر راج اور آئین کی متعلقہ شقوں کے نفاذ کے حوالے سے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر بات ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کسی لٹیرے کے ہاتھ میں نہیں دی جائے گی اور کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ قانونی و آئینی معاملات میں کوئی بے ضابطگی ہو رہی ہے۔
خواجہ آصف نے تحریک انصاف کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت آج تک کسی شہید کے جنازے میں شرکت کے لیے نہیں گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ وہ محمود غزنوی کہاں گیا جو اسلام آباد آنے کے دعوے کرتا تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی چالیں اب کامیاب نہیں ہوں گی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ سیاست دان اکثر قلیل مدتی مفادات کے لیے فیصلے کرتے ہیں اور بعض اوقات ان لوگوں کے ساتھ بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جاتے ہیں جنہوں نے ماضی میں ان کے خلاف بیانات دیے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، حالیہ صورت حال میں مسائل کے حل کے لیے کوششیں کی گئیں اور حکومت کا قطعی ارادہ نہیں تھا کہ صوبے میں آئین کی دفعات 232 اور 234 نافذ کی جائیں۔
خواجہ آصف نے اس معاملے میں محسن نقوی کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ میں بیان کی گئی روداد نے کئی اہم شخصیات کے کردار کو بے نقاب کیا اور ان کی شرافت کا لبادہ تار تار کر دیا۔
انہوں نے متعلقہ ادارے کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس ادارے کے بارے میں بات کی جا رہی ہے، اس نے اپنے خون سے اپنی وفاداری کی ترجمانی کی ہے۔


