اٹلانٹا: امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مختلف شہروں میں نو کنگز کے عنوان سے ریلیاں نکالی گئیں، جہاں مظاہرین نے جمہوریت، ووٹنگ کے حق اور انتخابی عمل کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی۔
امریکی شہر اٹلانٹا میں ہونے والی ریلی میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین تاریخی پیڈمونٹ پارک سے مارچ کرتے ہوئے سینٹ مارک چرچ پہنچے، جہاں انتخابی عمل کے تحفظ اور ووٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔
ریلی کا بنیادی مقصد صرف صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج نہیں بلکہ شہریوں کو 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے متحرک کرنا بھی تھا۔ منتظمین نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جلد ووٹ ڈالنے کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسیوں کو بھی پولنگ اسٹیشن تک پہنچنے میں مدد دیں۔
اٹلانٹا سٹی کونسل کی رکن کلسیا بانڈ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں ایسی جمہوری سوسائٹی کی ضرورت ہے جو عام محنت کش طبقے کے لیے کام کرے، نہ کہ صرف ارب پتی افراد کے مفادات کا تحفظ کرے۔

مظاہرین نے ریاست جارجیا میں ووٹ کے حق سے متعلق پالیسیوں اور انتخابی حلقہ بندیوں میں ممکنہ سیاسی اثراندازی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ریلی کے شرکا کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے حق کا تحفظ جمہوریت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ریلی میں امیگریشن اور امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) بھی اہم موضوع رہا۔ بعض مظاہرین نے تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں پر شدید احتجاج کیا اور امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔
امریکی خارجہ پالیسی بھی مظاہرین کی تنقید کا نشانہ بنی۔ شرکا نے ایران میں جاری جنگ اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ بعض مظاہرین نے جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مہنگائی اور طویل فوجی کارروائیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

نو کنگز احتجاجی تحریک کا آغاز ٹرمپ کی جانب سے 2025 میں اپنے آپ کو بادشاہ کے روپ میں پیش کرنے والی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شیئر کیے جانے کے بعد ہونے والے مظاہروں سے ہوا تھا۔ بعد ازاں یہ احتجاج امریکا کے مختلف شہروں تک پھیل گیا۔
اٹلانٹا میں ریلی کے اختتام پر منتظمین نے شرکا کو انتخابی مبصر کے طور پر رضاکارانہ خدمات انجام دینے کی دعوت دی، جبکہ ایک ورکشاپ میں انتخابی نگرانی اور انتخابی عمل کے تحفظ سے متعلق تربیت بھی دی گئی۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ انتخابات آزاد، شفاف ہوں اور ہر ووٹ کو شمار کیا جائے۔


