امریکا کے سرکاری اداروں میں چینی اے آئی ٹول ڈیپ سیک کے استعمال پر پابندی

نیویارک: امریکا نے چینی ٹیکنالوجی کمپنی ڈیپ سیک کے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے خلاف اہم اقدام کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے شہری اداروں کو ان کا استعمال بند کرنے اور اپنے آئی ٹی سسٹمز سے ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ڈیپ سیک کے استعمال سے حساس سرکاری معلومات چین منتقل ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے 19 اکتوبر کو جاری کیے گئے نوٹس میں ڈیپ سیک کی تیار کردہ مصنوعات اور ان تھرڈ پارٹی سروسز کو بھی ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے جو ڈیپ سیک کے اے آئی ماڈلز استعمال کرتی ہیں۔ اس اقدام کے تحت وفاقی شہری اداروں کو ڈیپ سیک کی مصنوعات اور خدمات کی خریداری سے بھی روک دیا گیا ہے۔

ڈیپ سیک پر امریکی خدشات

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی سے منسلک دستاویز میں ڈیپ سیک کے اے آئی ماڈلز کو سکیورٹی کے متعدد ممکنہ خطرات کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اگر سرکاری ملازمین یا حکومتی ٹھیکے دار ان ٹولز کو استعمال کریں تو حساس معلومات چین منتقل ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

امریکی حکام نے اس خدشے کی ایک وجہ ڈیپ سیک کے سرورز کا چین میں واقع ہونا بھی بتائی ہے۔ ان کے مطابق چین کا قانونی نظام حکومت کو نجی کمپنیوں کے بنیادی ڈھانچے اور ڈیٹا تک وسیع رسائی کے اختیارات دیتا ہے۔

تاہم یہ امریکی حکام کی جانب سے ظاہر کیے گئے سکیورٹی خدشات ہیں؛ انہیں ڈیپ سیک کے ذریعے حساس امریکی ڈیٹا کی منتقلی کے کسی ثابت شدہ واقعے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ اے ایف پی کے مطابق خبر شائع ہونے تک ڈیپ سیک سے مؤقف طلب کیا گیا تھا۔

پابندی کن اداروں پر لاگو ہوگی؟

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا یہ حکم وفاقی حکومت کے شہری اداروں کے آئی ٹی نظاموں اور سرکاری خریداری سے متعلق ہے۔ اس میں ڈیپ سیک کی براہ راست مصنوعات کے ساتھ ان کمپنیوں کی خدمات بھی شامل ہیں جن میں ڈیپ سیک کے ماڈلز استعمال کیے گئے ہوں۔

یہ اقدام فوجی اور انٹیلی جنس اداروں پر اسی اختیار کے تحت لاگو نہیں ہوتا۔ اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

اس طرح یہ پابندی عام امریکی شہریوں کے لیے ڈیپ سیک پر ملک گیر پابندی کے بجائے وفاقی شہری اداروں کے سرکاری نظاموں اور خریداری سے متعلق اقدام ہے۔

ڈیپ سیک سے عالمی اے آئی صنعت متاثر

چین کی نمایاں مصنوعی ذہانت کمپنیوں میں شامل ڈیپ سیک نے جنوری 2025 میں کم لاگت اور اعلیٰ کارکردگی کے حامل چیٹ بوٹ کے ذریعے عالمی ٹیکنالوجی صنعت کی توجہ حاصل کی تھی۔ اس کی پیش رفت نے اس تصور کو چیلنج کیا کہ جدید اے آئی ماڈلز کی تیاری میں امریکی کمپنیوں کو لازماً فیصلہ کن برتری حاصل رہے گی۔

کمپنی نے اپریل 2026 میں اپنا نیا ماڈل وی فور متعارف کرایا، جبکہ اکتوبر میں اس کا زیادہ تیز اور نسبتاً ہلکا ورژن بھی اپ ڈیٹ کیا گیا۔

ڈیپ سیک کی پیش رفت نے اس بحث کو تقویت دی کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی تیار کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری ہی واحد راستہ نہیں۔ دوسری جانب امریکی حکام نے ڈیپ سیک سمیت بعض چینی اے آئی کمپنیوں پر امریکی حریفوں کے جدید ماڈلز کی صلاحیتیں منظم انداز میں حاصل کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ ان الزامات کو متعلقہ کمپنیوں کے خلاف ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

امریکا چین ٹیکنالوجی کشمکش

ڈیپ سیک کے خلاف تازہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین جدید مصنوعی ذہانت کی تیاری، ڈیٹا سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کی عالمی برتری کے لیے مقابلے میں مصروف ہیں۔

امریکا کے لیے سرکاری ڈیٹا کا تحفظ اور حساس معلومات کی بیرون ملک منتقلی روکنا اس اقدام کے اہم پہلو ہیں، جبکہ چین کی اے آئی کمپنیوں کی کم لاگت مصنوعات امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے مسابقت کا ایک نیا عنصر بن چکی ہیں۔

دونوں ممالک نے ستمبر 2026 میں اے آئی سے متعلق ممکنہ واقعات اور خطرات پر رابطے کے لیے ایک مواصلاتی چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ توقع ہے کہ مصنوعی ذہانت کی سکیورٹی اور عالمی مسابقت کا معاملہ نومبر میں چین کے شہر شینزن میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کی متوقع ملاقات میں بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔

ڈیپ سیک کے خلاف امریکی اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن جدید مصنوعی ذہانت کو صرف تجارتی مسابقت نہیں بلکہ قومی سلامتی اور سرکاری معلومات کے تحفظ سے بھی جوڑ رہا ہے۔