دبئی: اسمارٹ فونز میں کیمرے، ڈسپلے اور پروسیسر پہلے سے زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں، جس کے ساتھ طویل بیٹری بیک اپ کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے موبائل فون بنانے والی کمپنیاں سلیکون کاربن بیٹری ٹیکنالوجی پر توجہ دے رہی ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے بعض اسمارٹ فونز میں 8000 ایم اے ایچ اور 10000 ایم اے ایچ تک کی بیٹریاں فراہم کرنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ سلیکون کاربن بیٹری روایتی لیتھیم آئن بیٹری سے کتنی مختلف ہے، اور کیا واقعی اس سے فون زیادہ دیر تک چل سکتا ہے؟
کیا ہے سلیکون کاربن بیٹری ٹیکنالوجی؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سلیکون کاربن بیٹری، لیتھیم آئن بیٹری سے بالکل الگ ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ یہ دراصل لیتھیم آئن بیٹری کی ایک جدید قسم ہے، جس میں بیٹری کے منفی الیکٹروڈ، یعنی اینوڈ، کے مواد میں تبدیلی کی جاتی ہے۔
روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں میں عموماً گریفائٹ استعمال ہوتا ہے، جبکہ سلیکون کاربن بیٹری میں سلیکون اور کاربن پر مبنی مواد شامل کیا جاتا ہے۔
سلیکون کی خاص بات یہ ہے کہ وہ گریفائٹ کے مقابلے میں زیادہ لیتھیم آئن ذخیرہ کر سکتا ہے۔ دوسری جانب کاربن پر مبنی ساخت برقی چالکائی اور الیکٹروڈ کے استحکام کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
اس امتزاج سے بیٹری کے محدود حجم میں زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھ سکتی ہے، جو اسمارٹ فونز کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
لیتھیم آئن اور سلیکون کاربن بیٹری میں فرق
روایتی لیتھیم آئن بیٹری کے اینوڈ میں عموماً گریفائٹ استعمال ہوتا ہے۔ اس میں توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت مواد اور ڈیزائن سے محدود ہوتی ہے۔یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی اسمارٹ فونز میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔
سلیکون کاربن بیٹری
نئی سلیکون کاربن بیٹری میں اینوڈ میں سلیکون اور کاربن پر مبنی مواد استعمال ہوتا ہے۔ یہ نسبتاً کم جگہ میں زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی گنجائش مل سکتی ہے۔ بڑی بیٹری کو فون میں فٹ کرنے یا اسی گنجائش کے ساتھ فون کو پتلا رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ دونوں ٹیکنالوجیز میں بنیادی الیکٹرو کیمیکل نظام لیتھیم آئن پر ہی مبنی ہوتا ہے۔ اصل فرق اینوڈ کے مواد اور اس کی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کا ہے۔
سلیکون کاربن بیٹری کے فائدے
اس ٹیکنالوجی کا سب سے نمایاں فائدہ زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس سے فون بنانے والی کمپنیوں کو محدود جگہ میں بڑی گنجائش والی بیٹری نصب کرنے کا موقع ملتا ہے۔
زیادہ ایم اے ایچ گنجائش والا فون مناسب حالات میں زیادہ دیر چل سکتا ہے۔ اس کا فائدہ ان صارفین کو ہو سکتا ہے جو ویڈیوز دیکھتے ہیں، گیمز کھیلتے ہیں یا دن بھر موبائل استعمال کرتے ہیں۔
تاہم حقیقی بیٹری بیک اپ کا انحصار صرف بیٹری کی گنجائش پر نہیں، بلکہ اسکرین، پروسیسر، نیٹ ورک سگنل اور سافٹ ویئر کی کارکردگی پر بھی ہوتا ہے۔
پتلے فونز میں بڑی بیٹری
کم جگہ میں زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے اسمارٹ فون کمپنیوں کے لیے پتلے فونز اور فولڈیبل ڈیوائسز میں بڑی بیٹری فراہم کرنا آسان ہو سکتا ہے۔
فاسٹ چارجنگ کے نئے امکانات
سلیکون کاربن بیٹریوں کو فاسٹ چارجنگ کی صلاحیت کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم چارج ہونے کی رفتار کا انحصار بیٹری کے ڈیزائن، چارجر، درجۂ حرارت اور فون کے پاور مینجمنٹ سسٹم پر ہوتا ہے۔ صرف سلیکون کاربن ٹیکنالوجی ہونے سے فاسٹ چارجنگ کی ضمانت نہیں ملتی۔
سلیکون کاربن ٹیکنالوجی کی خامیاں
سلیکون کاربن کی ایک بڑی تکنیکی مشکل یہ ہے کہ چارجنگ اور ڈسچارجنگ کے دوران اس کا حجم نمایاں طور پر بڑھ اور گھٹ سکتا ہے۔ بار بار ایسا ہونے سے الیکٹروڈ کی ساخت متاثر ہونے اور وقت کے ساتھ بیٹری کی کارکردگی کم ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
اسی لیے بیٹری بنانے والی کمپنیاں سلیکون اور کاربن کے امتزاج، الیکٹروڈ کی ساخت اور دیگر مواد کو بہتر بنانے پر کام کرتی ہیں تاکہ بیٹری زیادہ عرصے تک مؤثر انداز میں کام کر سکے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بیٹری کی مجموعی عمر کا انحصار چارجنگ سائیکل، حرارت، استعمال اور بیٹری مینجمنٹ سسٹم پر ہوتا ہے۔
کیا 10000 ایم اے ایچ بیٹری والا فون زیادہ بہتر ہوگا؟
ضروری نہیں کہ زیادہ ایم اے ایچ بیٹری والا فون زیادہ بہتر ہوگا۔ زیادہ گنجائش والی بیٹری ایک بڑا فائدہ ضرور ہے، لیکن فون خریدتے وقت صرف ایم اے ایچ کو دیکھنا کافی نہیں۔
بیٹری بیک اپ: فون کی گنجائش کے ساتھ اس کی توانائی کی کھپت بھی دیکھیں۔
چارجنگ اسپیڈ: معلوم کریں کہ فون کتنے واٹ کی چارجنگ سپورٹ کرتا ہے۔
بیٹری کی عمر: طویل مدت میں بیٹری کی صحت برقرار رکھنے کی صلاحیت اہم ہے۔
فون کا وزن اور موٹائی: بڑی بیٹری کے باوجود ڈیوائس کا ڈیزائن اور وزن آپ کے لیے موزوں ہونا چاہیے۔
سلیکون کاربن بیٹری مستقبل کی ٹیکنالوجی؟
سلیکون کاربن ٹیکنالوجی اسمارٹ فون بیٹریوں میں ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ یہ کم جگہ میں زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کے امکانات بڑھاتی ہے۔ اس سے بڑی بیٹری والے فونز، بہتر بیک اپ اور پتلے ڈیزائن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
تاہم اسے روایتی لیتھیم آئن ٹیکنالوجی کا مکمل متبادل سمجھنا درست نہیں، کیونکہ یہ بھی لیتھیم آئن نظام ہی کی ایک جدید شکل ہے۔ اس کی کامیابی کا انحصار توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ بیٹری کی پائیداری، حفاظت، چارجنگ کی رفتار اور مجموعی کارکردگی پر ہوگا۔
مختصر یہ کہ سلیکون کاربن بیٹری کا اصل فائدہ صرف زیادہ ایم اے ایچ نہیں، بلکہ محدود جگہ میں زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہی خصوصیت اسے اسمارٹ فونز کی اگلی نسل کے لیے ایک اہم ٹیکنالوجی بناتی ہے۔


