پاکستان میں مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ: عالمی بینک کی رپورٹ

اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان کی مالی سال 2025-26 کی اقتصادی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی اوسط شرح بڑھ کر 7.1 فیصد ہوگئی، جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال 2024-25 میں یہ شرح 4.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان میں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا۔

عالمی بینک کے مطابق مارچ سے جون 2026 کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 10.2 فیصد رہی، جبکہ مئی 2026 میں یہ بڑھ کر 11.7 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ایندھن، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو اخراجات میں مزید اضافہ کیا، جس کے اثرات شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں محسوس کیے گئے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں

رپورٹ کے مطابق فروری سے جون 2026 کے دوران توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور پیداواری لاگت کو بھی متاثر کیا۔

پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 36 فیصد ، ہائی اسپیڈ ڈیزل 31 فیصد ، ایل پی جی کی قیمت میں تقریباً 46 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا۔

عالمی بینک کے مطابق مارچ 2026 سے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں شدت آئی۔ ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے مال برداری اور آمدورفت کے اخراجات میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں صارفین کو بھی زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑیں۔

غذائی مہنگائی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران شہری علاقوں میں غذائی مہنگائی کی اوسط شرح 4.3 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 5.4 فیصد رہی۔

عالمی بینک کے مطابق گندم اور جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے نے غذائی مہنگائی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگست 2026 تک شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں غذائی اشیا مہنگائی میں اضافے کا سب سے بڑا حصہ رہیں۔

اس صورتِ حال میں کم اور متوسط آمدنی والے گھرانوں کے لیے خوراک، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

بنیادی مہنگائی بھی برقرار

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں بنیادی مہنگائی کی اوسط شرح شہری علاقوں میں 7.4 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.5 فیصد رہی، جبکہ مئی 2026 میں شہری علاقوں میں بنیادی مہنگائی 9 فیصد تک پہنچ گئی۔

بنیادی مہنگائی سے مراد عمومی طور پر ایسی مہنگائی ہے جس میں خوراک اور توانائی جیسی نسبتاً زیادہ اتار چڑھاؤ والی اشیا کو الگ کرکے قیمتوں کے عمومی رجحان کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شرح میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ قیمتوں کا دباؤ صرف ایندھن اور خوراک تک محدود نہیں رہا۔

شرح نمو 3.7 فیصد

مہنگائی میں اضافے کے باوجود عالمی بینک کی رپورٹ میں پاکستان کی معاشی سرگرمیوں میں نمو کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ملک کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے کی نمو 2.9 فیصد رہی، جس میں لائیو اسٹاک نے اہم کردار ادا کیا۔ خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 2.6 فیصد کے برابر رہ گیا۔

عالمی بینک کے مطابق ایس اینڈ پی اور موڈیز نے بھی پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی، جبکہ پاکستان نے عالمی مارکیٹ میں 750 ملین ڈالر اور 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ جاری کیے۔

پالیسی ریٹ 11.5 فیصد

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ بڑھا کر 11.5 فیصد کردیا۔ شرح سود میں اضافے کا مقصد مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنے اور مالیاتی استحکام برقرار رکھنے میں مدد دینا ہوتا ہے، تاہم اس سے قرض لینے کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔

کاروباری اداروں کے لیے مہنگی فنانسنگ سرمایہ کاری اور توسیعی منصوبوں کو متاثر کرسکتی ہے، جبکہ صارفین کے لیے قرضوں کی اقساط اور کاروباری اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ

عالمی بینک کی فراہم کردہ پیش گوئی کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.8 فیصد اور افراطِ زر کی شرح 8.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

یہ پیش گوئی ظاہر کرتی ہے کہ معاشی نمو میں معمولی بہتری کے باوجود مہنگائی ایک اہم چیلنج رہے گی۔ توانائی کی عالمی قیمتیں، مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، غذائی اشیا کی رسد اور ملکی معاشی پالیسی آئندہ مہینوں میں مہنگائی کی سمت متعین کرنے والے اہم عوامل ہوں گے۔

پاکستان کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے عوام پر بڑھتے ہوئے اخراجات کا دباؤ کم کیا جائے۔