بچوں میں سوشل میڈیا کی لت: آسٹریلیا میں میٹا، فیس بک اور انسٹاگرام پر مقدمہ دائر

سڈنی: ٹیکنالوجی کمپنی میٹا اور اس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام کو آسٹریلیا میں ایک بڑے قانونی چیلنج کا سامنا ہے، جہاں ان پلیٹ فارمز کے مبینہ طور پر نشہ آور ڈیزائن اور نقصان دہ مواد کے بچوں اور نوعمروں پر اثرات کے حوالے سے اجتماعی مقدمہ دائر کردیا گیا ہے۔

قانونی فرم منٹر ایلیسن کے مطابق، آسٹریلیا کی وفاقی عدالت میں دائر اس مقدمے کا مقصد فیس بک اور انسٹاگرام کے موجودہ اور سابق صارفین کے لیے ہرجانے کا حصول ہے۔ دعوے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بعض صارفین کو ان پلیٹ فارمز کے استعمال کے نتیجے میں نقصان دہ مواد کا سامنا کرنا پڑا یا وہ سوشل میڈیا کے عادی ہوگئے۔

یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ذمہ داری اور نوجوانوں کی ذہنی و سماجی صحت پر آن لائن سرگرمیوں کے اثرات سے متعلق بحث تیز ہورہی ہے۔

متاثرہ افراد کی قانونی کارروائی

منٹر ایلیسن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، یہ اجتماعی مقدمہ 8 مدعیان کی طرف سے دائر کیا گیا ہے، جن کا الزام ہے کہ 18 سال سے کم عمر ہونے کے دوران انہیں میٹا کے پلیٹ فارمز کے استعمال سے نقصان پہنچا۔

مقدمے میں سوشل میڈیا کے ڈیزائن اور اس کے عملی طریقۂ کار کو بنیادی سوال بنایا گیا ہے، خصوصاً یہ کہ پلیٹ فارمز کے بعض فیچرز بچوں اور نوعمروں کے استعمال کو کس طرح متاثر کرسکتے ہیں۔

منٹر ایلیسن کے پارٹنر ولیم نولان نے کہا کہ یہ کارروائی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ڈیزائن، ان کے کام کرنے کے طریقے اور آسٹریلیا کے بچوں و نوعمروں پر ان کے اثرات سے متعلق اہم سوالات اٹھاتی ہے، جن پر اب وفاقی عدالت میں غور کیا جائے گا۔تاہم، مقدمے میں لگائے گئے الزامات تاحال عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

مقدمے کی تفصیلات خفیہ

آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے پیر کے روز ایک حکم کے ذریعے ایسی معلومات کی اشاعت پر پابندی عائد کردی ہے جن سے آٹھ مدعیان کی شناخت ظاہر ہوسکتی ہو۔ اس کے علاوہ دعوے کی تفصیلات پر مشتمل دستاویزات کی رپورٹنگ بھی محدود کردی گئی ہے۔

اس اقدام کا مطلب ہے کہ مقدمے کے بعض اہم پہلو فی الحال عوامی سطح پر سامنے نہیں لائے جاسکتے۔ تاہم، قانونی کارروائی کے ذریعے سوشل میڈیا کمپنیوں کے ڈیزائن اور نوجوان صارفین کو لاحق ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

میٹا کا مؤقف

میٹا کے ترجمان نے مقدمے سے آگاہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی اس قانونی کارروائی کا بھرپور دفاع کرے گی۔

دوسری جانب، مقدمے کی مالی معاونت کرنے والے ادارے لٹیگیشن لینڈنگ سروسز کا کہنا ہے کہ اس کی فنڈنگ آسٹریلوی خاندانوں کو قانونی چارہ جوئی کا موقع فراہم کرتی ہے، جو بصورتِ دیگر عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کے خلاف ایسے دعوے دائر کرنے کے عملی وسائل نہیں رکھتے۔

مقدمے کا حتمی نتیجہ عدالت کے فیصلے اور پیش کیے جانے والے شواہد پر منحصر ہوگا۔

پابندی کا پس منظر

آسٹریلیا میں یہ قانونی کارروائی بگ ٹیک کمپنیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ ملک نے 2025 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی متعارف کرائی تھی، جسے دنیا بھر میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔

اس کے ساتھ ایسے مجوزہ ضوابط پر بھی غور کیا جارہا ہے جن کے تحت صارفین کو اپنی فیڈ میں الگورتھم کی مدد سے منتخب کردہ مواد کو بند کرنے کا اختیار مل سکتا ہے۔

الگورتھم صارفین کی دلچسپیوں اور سابقہ سرگرمیوں کی بنیاد پر مواد تجویز کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے نظام صارفین کو زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر رکھنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں، جس کے بچوں اور نوعمروں پر اثرات مزید تحقیق اور ضابطہ کاری کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔

امریکا میں بھی میٹا پر قانونی دباؤ

میٹا کو امریکا میں بھی بچوں اور نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق قانونی کارروائیوں کا سامنا رہا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، کمپنی نے اگست میں تقریباً تمام امریکی ریاستوں کے ساتھ دعووں کے تصفیے کے لیے 18 ارب ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ ان دعووں میں الزام تھا کہ سوشل میڈیا کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا جس سے بچوں میں اس کی لت پیدا ہوسکتی ہے۔

یہ امریکی معاملہ آسٹریلیا کے موجودہ مقدمے سے الگ ہے، تاہم دونوں کارروائیاں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری، بچوں کے تحفظ اور سوشل میڈیا کے ڈیزائن سے متعلق وسیع تر قانونی بحث کی عکاسی کرتی ہیں۔

بچوں کا ڈیجیٹل تحفظ

آسٹریلیا میں دائر ہونے والا یہ مقدمہ اس بات کا اہم امتحان بن سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنے کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے کس حد تک ذمہ دار ہیں اور ان کے ڈیزائن سے ہونے والے مبینہ نقصانات پر قانونی طور پر کیا مؤقف اختیار کیا جاسکتا ہے۔

اگر عدالت مدعیان کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو اس کے اثرات مستقبل میں سوشل میڈیا کمپنیوں کی پالیسیوں، پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق اقدامات پر پڑسکتے ہیں۔ تاہم، فی الحال مقدمے کے نتائج کے بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔