واشنگٹن: گوگل نے اینڈرائیڈ آٹو اور گوگل بلٹ اِن والی گاڑیوں کے لیے جیمنائی کا پرسنل انٹیلی جنس فیچر متعارف کرانے کا آغاز کر دیا ہے، جس کے ذریعے ڈرائیورز گاڑی چلاتے ہوئے قدرتی زبان میں سوالات پوچھ سکیں گے اور اپنی ذاتی معلومات کی بنیاد پر جوابات، تجاویز اور نیویگیشن کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔ اس فیچر کے ذریعے جیمنائی گوگل کی مختلف ایپس سے معلومات حاصل کرکے پیچیدہ سوالات کے جوابات دے سکے گا۔
گوگل کے مطابق اس اپ ڈیٹ کے تحت جیمنائی عالمی سطح پر اینڈرائیڈ آٹو اور گوگل بلٹ اِن والی گاڑیوں میں دستیاب ہوگا۔ اس کا مقصد ڈرائیونگ کے دوران صارفین کو مختلف ایپس میں الگ الگ معلومات تلاش کرنے کی ضرورت سے بچانا اور انہیں زیادہ ذاتی نوعیت کی ڈیجیٹل معاونت فراہم کرنا ہے۔
جیمنائی اب صارف کی ذاتی معلومات سے بھی دے گا جواب
گوگل کا نیا پرسنل انٹیلی جنس فیچر جیمنائی کو صارف کی اجازت سے جی میل، گوگل کیلنڈر، گوگل فوٹوز، گوگل میپس، یوٹیوب اور گوگل سرچ سے متعلق معلومات استعمال کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ اس طرح صارفین اپنے سوالات کے جواب ایک ہی جگہ حاصل کرسکیں گے۔
مثال کے طور پر، ڈرائیور جیمنائی سے اپنی پرواز کے گیٹ یا اس کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں پوچھ سکتا ہے۔ اسی طرح سفر کے راستے میں اپنی پسند کے مطابق ریستوران تلاش کرنے، ممکنہ مقامات کی فہرست بنانے اور پہلے ہونے والی گفتگو میں زیرِ بحث آنے والی جگہوں تک پہنچنے کے لیے بھی اسسٹنٹ کی مدد لی جاسکے گی۔
پیچیدہ سوالات اور اضافی سوالات کا جواب بھی ممکن
گوگل کے مطابق پرسنل انٹیلی جنس کی دو بنیادی صلاحیتیں ہیں۔ پہلی، منسلک ایپس سے مخصوص معلومات حاصل کرنا، اور دوسری، مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کا باہمی تجزیہ کرکے پیچیدہ سوالات کا جواب دینا۔
اس فیچر کے ذریعے صارفین ایک سوال کے بعد مزید سوالات بھی کرسکیں گے، جبکہ جیمنائی سابقہ گفتگو اور دستیاب ذاتی معلومات کی مدد سے زیادہ موزوں جوابات فراہم کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس طرح نیویگیشن اور سفر کی منصوبہ بندی بھی صارف کی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق ہوسکے گی۔
پرائیویسی اور صارف کی اجازت لازمی
گوگل نے واضح کیا ہے کہ پرسنل انٹیلی جنس ایک اختیاری فیچر ہے اور اسے استعمال کرنے کے لیے صارف کی اجازت ضروری ہوگی۔ صارف خود طے کرسکتا ہے کہ جیمنائی کو کن منسلک گوگل ایپس کی معلومات تک رسائی دی جائے۔
کمپنی کے مطابق یہ اجازت جیمنائی کی سیٹنگز میں کسی بھی وقت واپس لی جاسکتی ہے۔ گوگل بلٹ اِن والی گاڑیوں میں ذاتی معلومات پر مبنی جوابات فراہم کرنے کے لیے فون کا گاڑی سے منسلک ہونا بھی ضروری ہوگا۔
اینڈرائیڈ آٹو
گوگل نے اینڈرائیڈ آٹو پر پرسنل انٹیلی جنس کی مرحلہ وار فراہمی شروع کردی ہے، جبکہ گوگل بلٹ اِن سے لیس گاڑیوں میں اس کی دستیابی آنے والے مہینوں میں متوقع ہے۔
وہ صارفین جنہوں نے پہلے ہی جیمنائی ایپ میں یہ فیچر فعال کر رکھا ہے، ان کی متعلقہ ترجیحات گاڑی میں استعمال کے دوران بھی برقرار رہیں گی۔
یہ پیش رفت گاڑیوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی جانب ایک اہم قدم ہے، جہاں روایتی وائس کمانڈز کے بجائے صارفین عام گفتگو کے انداز میں سوالات کرکے اپنی ضرورت کے مطابق معلومات اور رہنمائی حاصل کرسکیں گے۔ تاہم، فیچر کی عملی دستیابی اور اس کی بعض سہولتیں گاڑی، سافٹ ویئر اور صارف کی اجازتوں کے مطابق مختلف ہوسکتی ہیں۔


