قادر خان : دلیپ کمار بھی جن کے معترف

کراچی: بالی ووڈ کی تاریخ میں کچھ فنکار ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنی اداکاری سے ہی نہیں، بلکہ اپنے لکھے ہوئے مکالموں سے بھی سینما کی دنیا پر گہری چھاپ چھوڑی۔ قادر خان انہی غیر معمولی فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ کبھی مزاحیہ کرداروں سے ناظرین کو ہنسانے والے، کبھی منفی کرداروں سے خوف پیدا کرنے والے اور کبھی ایسے مکالمے لکھنے والے جنہیں آج بھی شوق سے دہرایا جاتا ہے، قادر خان کی زندگی کامیابی کے ساتھ ساتھ سخت جدوجہد کی داستان بھی ہے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 22 اکتوبر 1937 کو پیدا ہونے والے قادر خان نے غربت، بھوک اور خاندانی مشکلات کے ایسے دور دیکھے جن کا تصور بھی آسان نہیں۔ بچپن میں مسجدوں کے باہر بھیک مانگنے سے لے کر قبرستان میں کھڑے ہوکر فلمی مکالمے بولنے تک، ان کا سفر غیر معمولی رہا۔ یہی شوق انہیں تھیٹر تک لے گیا اور پھر وہ ہندی سینما کے مقبول ترین مکالمہ نگاروں اور اداکاروں میں شامل ہوگئے۔

ان کی زندگی میں ایک طرف دلیپ کمار جیسے سپر اسٹار کی حوصلہ افزائی، دوسری طرف امیتابھ بچن سے گہری دوستی اور پھر تعلقات میں پیدا ہونے والی دوری جیسے کئی دلچسپ واقعات شامل ہیں۔

قادر خان کی پیدائش کابل میں ہوئی، جہاں ان کے والد مذہبی پیشوا تھے۔ ان کے تین بڑے بھائی تھے، لیکن بدقسمتی سے تینوں بچپن ہی میں انتقال کرگئے۔ ان واقعات نے ان کی والدہ کو اس قدر خوف زدہ کردیا کہ انہوں نے اپنے شوہر سے خاندان کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے پر اصرار کیا۔

خاندان بالآخر ممبئی پہنچ گیا اور کاماٹھی پورہ کے ایک تنگ و تاریک علاقے میں رہائش اختیار کی۔ یہاں زندگی آسان نہیں تھی۔ غربت، غیر یقینی حالات اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے کی جدوجہد خاندان کا مقدر بن چکی تھی۔

قادر خان ابھی کم عمر ہی تھے کہ ان کے والد والدہ سے علیحدہ ہوگئے۔ بعد میں والد نے ممبئی کی ایک مسجد میں امامت شروع کردی، جبکہ قادر خان اپنی والدہ اور سوتیلے والد کے ساتھ رہنے لگے۔ گھر کے معاشی حالات مسلسل خراب ہوتے گئے اور کھانے پینے کے لیے بھی مشکلات پیدا ہونے لگیں۔

مسجدوں کے باہر بھیک مانگی

قادر خان کے بچپن کا سب سے دردناک پہلو غربت تھی۔ ان کی والدہ نے ایک انٹرویو میں بیان کیے گئے واقعات کے مطابق، جب گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہ ہوتا تو وہ اپنے والد کے پاس پیسے لینے جاتے۔ کئی کلومیٹر پیدل چلنے کے باوجود جب انہیں رقم نہ ملتی تو وہ مسجد کے باہر بیٹھ کر بھیک مانگتے۔

جو کچھ مل جاتا، اسی سے گزارا ہوتا۔ بعض دن کھانا میسر آجاتا اور بعض راتیں بھوک میں گزرتیں۔ ان کے سوتیلے والد بھی کچھ عرصے بعد گھر چھوڑ کر چلے گئے، جس سے خاندان کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔

یہ وہ زمانہ تھا جب قادر خان کے لیے زندگی کا سب سے بڑا سوال روزگار نہیں بلکہ بنیادی ضروریات پوری کرنا تھا۔ لیکن ان کی والدہ نے ان حالات کے باوجود بیٹے کی تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

ماں نے دکھایا کامیابی کا راستہ

ایک دن قادر خان نے غربت سے تنگ آکر پڑھائی چھوڑنے اور کارخانے میں مزدوری کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے ہم عمر لڑکے انہیں سمجھاتے تھے کہ پڑھائی سے بہتر ہے کہ وہ کام کرکے چند روپے کمائیں اور گھر کا خرچ چلانے میں مدد کریں۔

لیکن جب ان کی والدہ کو اس فیصلے کا علم ہوا تو انہوں نے بیٹے کو روک لیا۔ انہوں نے سمجھایا کہ چند روپے کمانے سے خاندان کی تقدیر نہیں بدلے گی، اس لیے وہ تعلیم حاصل کریں اور اپنے مستقبل پر توجہ دیں؛ مشکلات کا مقابلہ وہ خود کریں گی۔

والدہ کی اس نصیحت نے قادر خان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے پڑھائی جاری رکھی، میٹرک پاس کیا اور سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں وہ بائیکلہ کے ایم ایچ صابو صدیق کالج آف انجینئرنگ میں تدریس سے وابستہ ہوگئے۔

یوں وہ ایک طرف انجینئرنگ کے طلبہ کو پڑھاتے رہے اور دوسری طرف تھیٹر میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے رہے۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو ظاہر کرتا ہے کہ وہ صرف ایک اداکار نہیں بلکہ تعلیم یافتہ اور ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک فنکار بھی تھے۔

قبرستان میں مکالمے

قادر خان کو بچپن ہی سے لوگوں کی نقل اتارنے اور مختلف آوازوں میں بات کرنے کا شوق تھا۔ وہ اپنے اس فن کا مظاہرہ عموماً تنہائی میں کرتے تھے۔ والدہ جب انہیں نماز کے لیے مسجد بھیجتیں تو وہ کبھی کبھار قبرستان میں جا کر فلمی مکالمے بلند آواز سے بولنے لگتے۔

ایک روز، جب ان کی عمر تقریباً آٹھ برس تھی، وہ قبرستان میں ایک فلم کا مکالمہ ادا کر رہے تھے۔ وہاں سے گزرنے والے تھیٹر سے وابستہ اشرف خان نے ان کی آواز سنی اور ان کی صلاحیت سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے قادر خان سے پوچھا کہ کیا وہ ڈرامے میں کام کرنا چاہیں گے۔

قادر خان نے فوراً ہامی بھرلی۔ یہی وہ موقع تھا جس نے انہیں اسٹیج کی دنیا سے متعارف کرایا۔ انہیں ڈراموں میں کام کرنے کے بدلے کچھ رقم بھی ملنے لگی، جس سے گھر کے اخراجات میں مدد ہوئی۔

رفتہ رفتہ وہ اداکاری کے ساتھ ڈرامے لکھنے اور ہدایت کاری کرنے لگے۔ ان کی صلاحیتوں نے تھیٹر کی دنیا میں انہیں پہچان دلانا شروع کردی۔

فلم کے مکالمے

قادر خان کی زندگی کا ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کے ڈرامے لوکل ٹرین نے ایک مقابلے میں توجہ حاصل کی۔ اس مقابلے میں ہدایت کار نریندر بیدی اور اداکارہ کامنی کوشل بھی موجود تھے۔ قادر خان کی تحریر اور اداکاری سے متاثر ہوکر دونوں نے انہیں فلموں میں کام کرنے کا مشورہ دیا۔

نریندر بیدی نے اپنی فلم جوانی دیوانی کے لیے انہیں مکالمے لکھنے کی پیش کش کی۔ ابتدا میں قادر خان نے اعتراف کیا کہ انہیں فلموں کے مکالمے لکھنے کا تجربہ نہیں، لیکن ہدایت کار نے ان کی ڈرامہ نگاری پر اعتماد ظاہر کیا اور انہیں اسکرپٹ دے دی۔

قادر خان اسکرپٹ لے کر میرین ڈرائیو پہنچے اور لکھنا شروع کردیا۔ قریب تین گھنٹے بعد وہ واپس نریندر بیدی کے دفتر پہنچے تو ہدایت کار کو حیرت ہوئی کہ وہ اتنی جلدی کیوں لوٹ آئے ہیں۔

لیکن جب قادر خان نے بتایا کہ وہ مکالمے مکمل کرکے لائے ہیں تو نریندر بیدی نے تحریر پڑھی اور ان کی صلاحیتوں سے بے حد متاثر ہوئے۔ اس کام کے لیے قادر خان کو 1500 روپے معاوضہ ملا، جو اس وقت ان کے لیے بڑی رقم تھی۔

یہ واقعہ ان کے فلمی سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا اور انہیں مکالمہ نگاری کے مزید مواقع ملنے لگے۔

دلیپ کمار بھی گرویدہ

قادر خان کی اداکاری کو پسند کرنے والوں میں عظیم اداکار دلیپ کمار بھی شامل تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ مزاحیہ اداکار آغا نے قادر خان کا ڈراما دیکھنے کے بعد دلیپ کمار کو ان کی صلاحیتوں کے بارے میں بتایا۔

دلیپ کمار نے قادر خان سے رابطہ کیا اور ان کا ڈراما دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ قادر خان نے دو شرائط رکھیں: وہ ڈراما شروع ہونے سے پہلے پہنچیں اور اسے مکمل دیکھیں۔ دلیپ کمار نے دونوں باتیں قبول کرلیں۔

ڈراما دیکھنے کے بعد دلیپ کمار نے قادر خان کی اداکاری کی تعریف کی اور انہیں اپنی فلموں سگینہ اور بیراگ میں کام کرنے کی پیش کش کی۔ قادر خان نے یہ موقع قبول کرلیا۔

بطور اداکار ان کی پہلی فلم راجیش کھنہ کی داغ تھی، جو 1973 میں ریلیز ہوئی۔ اس کے بعد ان کا فلمی سفر تیزی سے آگے بڑھنے لگا۔

اداکاری اور مکالمے

قادر خان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اداکاری اور مکالمہ نگاری، دونوں میدانوں میں نمایاں رہے۔ ان کے بارے میں شائع ہونے والی سوانحی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے تقریباً 300 فلموں میں اداکاری کی اور 250 سے زائد فلموں کے مکالمے لکھے۔

ان کی تحریر اور اداکاری سے مزین فلموں میں مقدر کا سکندر ، لاوارث ، شرا بی ، سُہاگ ، کولی ، امرفر اکبر انتھونی ، دھر م ویر ، ساتّے پہ ستہ ، کولی نمبر ون اور ساجن چلے سسرال جیسی فلمیں شامل ہیں۔

راجیش کھنہ اور منموہن دیسائی کی فلم روٹی کے لیے انہیں مبینہ طور پر ایک لاکھ 21 ہزار روپے معاوضہ دیا گیا تھا، جو اس دور میں غیر معمولی رقم سمجھی جاتی تھی۔

قادر خان کی مکالمہ نگاری کی خوبی یہ تھی کہ وہ کردار کی شخصیت، کہانی کے مزاج اور موقع کی مناسبت سے مکالمے تخلیق کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سنجیدہ، جذباتی اور مزاحیہ، ہر قسم کی فلموں کے لیے مقبول لکھاری بن گئے۔

امیتابھ بچن سے دوستی میں دراڑ

قادر خان اور امیتابھ بچن نے کئی کامیاب فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ مسٹر نٹور لال، ستّے پہ ستہ، ہم، اگنی پتھ، قُلی اور سُہاگ جیسی فلموں کے حوالے سے دونوں کے نام طویل عرصے تک ایک ساتھ لیے جاتے رہے۔

قادر خان نے امیتابھ بچن کے لیے یادگار مکالمے لکھے اور دونوں کے درمیان گہری دوستی قائم ہوگئی۔ تاہم، ایک واقعے کے بعد ان کے تعلقات میں دوری پیدا ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

قادر خان کے بیان سے منسوب ایک واقعے کے مطابق، جب امیتابھ بچن سیاست میں داخل ہوئے تو قادر خان نے انہیں اس فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کے خیال میں سیاست انسان کے تعلقات اور زندگی کو بدل سکتی ہے۔ بعدازاں امیتابھ بچن سیاست میں آئے اور رکنِ پارلیمان بھی بنے۔

ایک تقریب میں جنوبی ہند کے ایک پروڈیوسر نے قادر خان سے پوچھا کہ کیا وہ سر جی سے ملے ہیں؟ جب قادر خان نے وضاحت طلب کی تو پروڈیوسر نے امیتابھ بچن کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ سب انہیں سر جی کہتے ہیں۔

قادر خان نے مبینہ طور پر جواب دیا کہ وہ ان کے لیے امیت ہیں، کیونکہ دونوں دوست ہیں۔ اس کے بعد انہیں بھی امیتابھ کو سر جی کہنے کا مشورہ دیا گیا، لیکن انہوں نے اس اندازِ خطاب کو قبول نہیں کیا۔

قادر خان سے منسوب اس واقعے کے مطابق جب یہ بات امیتابھ بچن تک پہنچی تو دونوں کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا۔ تاہم، اس قصے کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے اسے قادر خان سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹ میں بیان کردہ واقعے کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے۔

یہ واقعہ دونوں فنکاروں کے مداحوں کے لیے آج بھی دلچسپی کا موضوع ہے، کیونکہ ایک وقت میں ان کی پیشہ ورانہ شراکت داری ہندی سینما کی مقبول ترین جوڑیوں میں شمار ہوتی تھی۔

فن کا اعتراف

قادر خان کو ان کی مکالمہ نگاری کے لیے فلم فیئر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق، انہوں نے میری آواز سنو (1982) اور انگار (1993) کے لیے بہترین مکالمہ نگاری کے فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیے۔

فلم باپ نمبری بیٹا دس نمبری کے لیے انہیں بہترین مزاحیہ اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کے مکالمے بھی انہوں نے خود لکھے تھے۔

بھارتی حکومت نے انہیں 2019 میں بعد از وفات پدم شری سے نوازا، جو ان کی فنی خدمات کا ایک اہم اعتراف ہے۔

قادر خان کا انتقال اور ورثہ

قادر خان نے زندگی کے آخری برس کینیڈا میں گزارے، جہاں وہ طویل عرصے سے مقیم تھے اور انہوں نے کینیڈین شہریت بھی حاصل کرلی تھی۔ وہ 31 دسمبر 2018 کو 81 برس کی عمر میں کینیڈا میں انتقال کرگئے۔

ان کے تین بیٹے سرفراز خان، شاہ نواز خان اور عبدالقدوس ہیں۔ سرفراز خان اداکاری جبکہ شاہ نواز خان ہدایت کاری سے وابستہ رہے۔ ان کے بیٹے عبدالقدوس کا بھی 2021 میں کینیڈا میں انتقال ہوگیا۔

قادر خان کی زندگی محض ایک کامیاب اداکار کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود تعلیم، محنت اور فن کو اپنا سہارا بنایا۔ انہوں نے غربت سے نکل کر ایسی شناخت حاصل کی جسے آج بھی ہندی فلموں کے شائقین قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔