اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے خزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ سپر ٹیکس کاروباری طبقے پر اضافی بوجھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکس گزشتہ ادوار میں بھی عائد کیا جاتا رہا ہے، تاہم رواں برس حکومت کو اسے ختم کرنے کی گنجائش نظر آئی تو اس حوالے سے اقدام کیا گیا۔
وزیر مملکت کے مطابق اب سپر ٹیکس صرف ان کاروباروں پر لاگو ہوتا ہے جن کی سالانہ آمدنی 50 کروڑ روپے سے زیادہ ہے، جبکہ اس کی شرح بھی پہلے کے 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے۔
سپر ٹیکس کا دائرہ محدود
سینیٹ میں پیش کیے گئے جواب کے مطابق، پہلے سپر ٹیکس 15 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر لاگو ہوتا تھا، جبکہ اب اس کے اطلاق کے لیے آمدنی کی حد بڑھا کر 50 کروڑ روپے کردی گئی ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت کاروباری طبقے پر ٹیکس کے بوجھ کو تسلیم کرتی ہے اور مالی گنجائش پیدا ہونے کی صورت میں اس ٹیکس کو مزید ختم کرنے یا اس حوالے سے اقدامات کرنے کا امکان موجود ہے۔
پیٹرولیم لیوی سے 1676 ارب روپے وصول
وقفہ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں اب تک 1676 ارب روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔
حکومتی جواب میں وزیراعظم پاکستان کی فیول سبسڈی اسکیم کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے بارے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس سے کمزور اور کم آمدنی والے طبقے کو خاطر خواہ ریلیف مل رہا ہے۔
پٹرولیم لیوی اور ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی کے معاملات عوامی اخراجات، حکومتی آمدنی اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کی پالیسی کے اہم پہلو ہیں۔
نئی موبائل سم پر 250 روپے ٹیکس
سینیٹ میں موبائل سمز کے اجرا اور سیلولر موبائل فونز کی درآمد اور مقامی فراہمی پر عائد ٹیکسوں کا طریقہ کار بھی پیش کیا گیا۔
حکومتی جواب کے مطابق موبائل سم فعال کرنے پر فی سم 250 روپے سیلز ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔
موبائل فونز پر ٹیکس
درآمدی مالیت کی بنیاد پر سیلولر موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کی شرح بھی بیان کی گئی۔
جس کے مطابق 500 امریکی ڈالر تک مالیت کے فونز کی درآمد پر 18 فیصد جب کہ 500 امریکی ڈالر سے زیادہ مالیت کے فونز پر 25 فیصد سے زائد سیلز ٹیکس لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی طور پر تیار موبائل فونز پر عمومی شرح کے مطابق 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔


