ٹرمپ کی ایران پر ایک اور حملے کی دھمکی

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن دوبارہ ایپک فیوری آپریشن شروع کر سکتا ہے، بصورت دیگر تہران کو امریکا کے ساتھ معاہدے کے لیے آمادہ ہونا چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ آٹھویں ماہ میں داخل ہونے کے قریب ہے اور سفارتی کوششیں تاحال کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکیں۔

فلوریڈا میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایک اور چھوٹا سا ایپک فیوری آپریشن کر سکتے ہیں، یا وہ معاہدے پر اتفاق کر لیں گے۔

امریکی صدر نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ ممکنہ نئی کارروائی کب کی جا سکتی ہے، اس کا دائرہ کتنا وسیع ہوگا یا ایران کو کن شرائط پر معاہدہ کرنا ہوگا۔

ٹرمپ نے تہران کو مذاکرات کی میز پر آنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں نے ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ دعوے امریکی صدر کے اپنے بیان کا حصہ ہیں۔

ایران جنگ اور نئے حملوں کا خدشہ

امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی کارروائیاں کیں۔

اس تنازع کے نتیجے میں خطے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور نقل مکانی ہوئی، جبکہ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔

ٹرمپ اس سے قبل رواں ماہ کہہ چکے تھے کہ امریکا 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر نیا حملہ نہیں کرے گا۔ تاہم ان کے تازہ بیان نے آئندہ امریکی حکمت عملی کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال پیدا کر دی ہے۔

ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی تیاری

دوسری جانب ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو تہران کا ردعمل زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایران کے دو سینئر سکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ تہران نے خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر بھی غور کیا ہے۔

سفارت کاری یا نئی جنگ؟

ٹرمپ کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے اسے معاہدے کے لیے آمادہ کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب تہران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی تیاری کے دعوے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات کو بڑھا رہے ہیں۔

فی الحال ٹرمپ کے بیان سے کسی نئے حملے کا حتمی فیصلہ ثابت نہیں ہوتا۔ آنے والے دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت، فوجی سرگرمیوں اور دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات سے واضح ہوگا کہ معاملہ کسی سفارتی معاہدے کی طرف بڑھتا ہے یا خطے کو ایک نئے فوجی تصادم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔