پل دوپل کا شاعر: دہائیوں بعد بھی زندہ ہے ساحر کا سحر

کراچی: کچھ شاعر صرف شعر نہیں کہتے، اپنے عہد کی آواز بن جاتے ہیں۔ ساحر لدھیانوی بھی انہی شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے محبت کی نزاکت، جدائی کی کسک، غربت کی تلخی اور سماجی ناانصافی کے خلاف احتجاج کو ایک ہی قلم میں سمو دیا۔

اردو ادب اور ہندوستانی فلمی دنیا میں ساحر لدھیانوی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کے الفاظ میں ایک ایسی کشش تھی جو عشقیہ جذبات سے شروع ہو کر انسانی دکھ، طبقاتی فرق، جنگ، امن اور انسان کی عزت و وقار تک پہنچتی تھی۔

ساحر کی خاص بات یہ تھی کہ وہ محبت کو صرف محبوب اور عاشق کی کہانی نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے ہاں عشق بھی سماج سے جڑا ہوا تھا اور دکھ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام ایک طرف دل کو چھوتا ہے تو دوسری طرف سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے۔

تخلص ساحر تو شاعری میں بھی سحر

ساحر لدھیانوی کا اصل نام عبدالحئی تھا۔ 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ میں پیدا ہونے والے ساحر نے زندگی کے ابتدائی برسوں میں ہی ایسے تجربات دیکھے جنہوں نے ان کی شخصیت اور فکر پر گہرا اثر ڈالا۔

تعلیم کے دوران بھی ان کی زندگی ہموار نہیں رہی۔ گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لینے کے بعد انہیں وہاں سے نکال دیا گیا، بعد ازاں دیال سنگھ کالج میں تعلیم جاری رکھی مگر وہاں بھی تعلیم مکمل نہ ہوسکی۔

زندگی کی یہی محرومیاں بعد میں ان کی شاعری کا حصہ بنتی گئیں۔ ان کے اشعار میں محبت ضرور تھی، مگر اس محبت کے پیچھے ایک ایسا انسان بھی نظر آتا تھا جو اپنے اردگرد موجود غربت، ناانصافی اور طبقاتی تقسیم سے بے چین تھا۔

تلخیاں اور ایک الگ آواز

ساحر کا شعری مجموعہ تلخیاں‘ان کی ادبی شناخت کا اہم حوالہ بنا۔ اس میں رومان، انقلاب اور سماجی شعور ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

ساحر نے اپنے عہد کی روایتی محبت کو بھی چیلنج کیا۔ ان کی معروف نظم ’تاج محل‘ اس کی بہترین مثال ہے۔

تاج محل کو دنیا محبت کی لازوال علامت کے طور پر دیکھتی ہے، لیکن ساحر نے اسی علامت کو ایک مختلف زاویے سے دیکھا۔ ان کے نزدیک محبت صرف ایک بادشاہ کی تعمیر کردہ عمارت کا نام نہیں بلکہ ان بے شمار انسانوں کے جذبات کا نام بھی ہے جنہیں تاریخ اکثر بھلا دیتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ساحر محض شاعر نہیں رہتے بلکہ سماج پر سوال اٹھانے والے ادیب بن جاتے ہیں۔

ایک تاج محل، دو نظریے

دلچسپ بات یہ ہے کہ تاج محل کے موضوع کو ایک دوسرے معروف نغمہ نگار شکیل بدایونی نے بالکل مختلف انداز میں پیش کیا۔

فلم لیڈر کے لیے شکیل بدایونی نے تاج محل کو محبت کی عظیم علامت کے طور پر پیش کیا۔ یوں ایک ہی تاریخی عمارت کو دو شاعروں نے دو الگ فکری زاویوں سے دیکھا۔

ساحر کے ہاں سوال تھا کہ کیا محبت کی عظمت کا پیمانہ صرف شاہی دولت سے تعمیر ہونے والی عمارت ہونی چاہیے؟ جبکہ شکیل بدایونی کے ہاں تاج محل محبت کی لازوال نشانی بن کر سامنے آتا ہے۔

یہی شاعری کی خوب صورتی ہے؛ ایک ہی منظر، مگر احساس اور فکر کے مختلف رنگ۔

فلمی دنیا میں ساحر کا اپنا مقام

ساحر لدھیانوی نے شاعری کو کتابوں تک محدود نہیں رہنے دیا۔ انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا اور ایسے گیت لکھے جنہوں نے عام لوگوں کے جذبات کو آواز دی۔

گرودت، بی آر چوپڑا اور یش چوپڑا جیسے معروف فلم سازوں کے ساتھ ان کی وابستگی نے ان کے خیالات کو کروڑوں لوگوں تک پہنچنے کا موقع دیا۔

ان کے فلمی گیتوں میں بھی وہی ساحر نظر آتا ہے جو اپنی شاعری میں دکھائی دیتا ہے؛ محبت کرنے والا بھی، سوال اٹھانے والا بھی اور انسان کے دکھ کو محسوس کرنے والا بھی۔

ان کا پیغام مذہب، ذات اور طبقے کی دیواروں سے بلند ہو کر انسانیت کو مرکز بناتا ہے۔

تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا

یہ الفاظ آج بھی اس لیے اثر رکھتے ہیں کہ ان میں انسان کو اس کی شناختوں سے پہلے انسان سمجھنے کی بات کی گئی ہے۔

ساحر کے ہاں محبت صرف محبت نہیں

ساحر کی شاعری پڑھتے ہوئے ایک لمحے کو لگتا ہے کہ یہ کسی عاشق کا دل ہے، پھر اچانک محسوس ہوتا ہے کہ یہی آواز کسی غریب، مزدور، محروم یا بے بس انسان کا دکھ بھی بیان کر رہی ہے۔

غربت، بھوک، افلاس، غلامی اور طبقاتی فرق ان کے کلام کے مستقل موضوعات رہے۔ وہ اپنے ذاتی غم کو اجتماعی دکھ سے الگ نہیں کرتے تھے۔

ان کے نزدیک شاعر کا کام صرف خوب صورت الفاظ تخلیق کرنا نہیں بلکہ اپنے زمانے کو سمجھنا اور اس کے مسائل پر بات کرنا بھی تھا۔

سادہ الفاظ، گہری بات

ساحر کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کی زبان بھی تھی۔ انہوں نے مشکل اور ثقیل الفاظ کے بجائے ایسی زبان اختیار کی جو عام قاری اور سامع کے دل تک آسانی سے پہنچ سکے۔

اسی سادگی میں ان کی شاعری کی گہرائی چھپی ہوئی ہے۔

زندگی کے تعلقات، جدائی اور جذباتی کشمکش کو بیان کرتے ہوئے ان کے اشعار میں ایک خاص ٹھہراؤ محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام صرف ایک زمانے کا کلام نہیں رہا بلکہ نئی نسلیں بھی اسے اپنے جذبات کے قریب محسوس کرتی ہیں۔

ساحر آج بھی کیوں زندہ ہیں؟

ساحر لدھیانوی کو گزرے کئی دہائیاں بیت چکی ہیں، مگر ان کا نام آج بھی کتابوں، فلمی گیتوں، مشاعروں اور لوگوں کی گفتگو میں زندہ ہے۔

شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ساحر نے صرف اپنے زمانے کے لیے نہیں لکھا۔ محبت آج بھی ہے، جدائی آج بھی ہے، غربت آج بھی ہے، جنگ اور امن کے سوال آج بھی موجود ہیں اور انسان کی عزت و وقار کی جدوجہد بھی جاری ہے۔

اس لیے ساحر کا شعر جب آج پڑھا جاتا ہے تو وہ ماضی کی آواز محسوس نہیں ہوتا، بلکہ موجودہ زندگی کی کوئی بات کہتا ہوا لگتا ہے۔

ساحر لدھیانوی صرف ایک شاعر یا نغمہ نگار نہیں تھے۔ وہ ایک ایسا تخلیق کار تھے جنہوں نے محبت کو سماج سے، ذاتی دکھ کو اجتماعی درد سے اور شاعری کو انسان دوستی سے جوڑ دیا۔

8 مارچ 1921 کو لدھیانہ سے شروع ہونے والا یہ سفر 25 اکتوبر 1980 کو ممبئی میں اختتام پذیر ہوا، مگر ساحر کے الفاظ کا سفر آج بھی جاری ہے۔ وہ چلے گئے، مگر ان کا سحر آج بھی باقی ہے۔