ٹرمپ کا کینیڈا سے جلد تجارتی معاہدے طے پانےکا عندیہ

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی تنازع جلد ختم ہونے اور نئے تجارتی معاہدے پر پیش رفت کا امکان ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے ریاست مشی گن کے شہر پورٹ ہورون میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی معاملہ ’بہت جلد‘ طے ہوجائے گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کینیڈا اس وقت امریکا کے ساتھ معاہدے کے لیے مختلف رعایتیں دینے پر آمادہ ہے۔ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کینیڈا پر امریکا کے ساتھ برسوں سے تجارتی فائدہ اٹھانے کا الزام بھی عائد کیا۔

امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب اگست میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔ اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈین مصنوعات پر مزید محصولات عائد کردیے۔

رپورٹ کے مطابق ان محصولات سے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا متاثر ہوئیں، جن میں ہاکی اسٹکس سے لے کر سیمنٹ تک مختلف مصنوعات شامل تھیں۔

جواب میں کینیڈا نے بھی تقریباً اتنی ہی مالیت کی امریکی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کردیے۔ اس کے بعد واشنگٹن نے بعض کینیڈین اشیا پر مزید سخت محصولات نافذ کیے، جن کی شرح بعض مصنوعات کے لیے 50 فیصد تک پہنچ گئی۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے گزشتہ جمعے کو ان میں سے کچھ محصولات واپس لے لیے۔ یہ اقدام امریکی سینیٹر سوزن کولنز کی درخواست کے بعد کیا گیا، جن کی ریاست مین کینیڈا کے ساتھ سرحد رکھتی ہے اور تجارتی کشیدگی سے خاص طور پر متاثر ہوئی ہے۔

امریکا میں آئندہ ہفتے وسط مدتی انتخابات ہونے جارہے ہیں اور ڈیموکریٹس سینیٹ میں ری پبلکنز سے اکثریت چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سینیٹر سوزن کولنز کی نشست بھی ان انتخابات میں اہم سمجھی جارہی ہے۔

ٹرمپ کے دوسری مدت صدارت سنبھالنے کے بعد امریکا نے دوست اور حریف دونوں ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔ امریکی صدر مختلف ممالک سے درآمدات پر محصولات عائد کرنے کو امریکا کے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ قرار دیتے رہے ہیں۔