ٹرائی سیریز میں انگلینڈکےخلاف پاکستان کی حیران کن فتح

لاہور: پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف انتہائی سنسنی خیز مقابلے میں ناممکن کو ممکن بناتے ہوئے ایک وکٹ سے کامیابی حاصل کرلی۔ 242 رنز کے ہدف کے تعاقب میں قومی ٹیم ایک موقع پر 154 رنز پر 9 وکٹیں گنوا چکی تھی، تاہم شاداب خان کی ناقابلِ شکست 113 رنز کی شاندار اننگز نے میچ کا نقشہ ہی بدل دیا۔

پاکستان کو آخری مرحلے میں جیت کے لیے معمولی رنز درکار تھے، لیکن نو وکٹیں گرنے کے بعد انگلینڈ کی فتح تقریباً یقینی دکھائی دے رہی تھی۔ میدان میں موجود کھلاڑی بھی میچ کے اختتام کی تیاری کر رہے تھے اور انگلش ٹیم فتح کا جشن منانے کے قریب تھی۔

اسی دوران 45ویں اوور میں ایک ایسا ڈرامائی لمحہ آیا جس نے پورے میچ کا رخ تبدیل کردیا۔

گس ایٹکنسن کی جانب سے کرائی گئی گیند پر شاداب خان کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل ہوئی اور فیلڈ امپائر نے انہیں آؤٹ قرار دے دیا۔ بظاہر پاکستان کی اننگز اور میچ دونوں ختم ہوچکے تھے، مگر شاداب کے فیصلے کے ریویو کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی۔

ٹی وی ری پلے میں الٹرا ایج نے واضح کیا کہ گیند بلے سے ٹکرانے کے بعد پیڈ تک پہنچی تھی۔ یوں ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ واپس لے لیا گیا اور شاداب خان کریز پر برقرار رہے۔ اس غیر متوقع موڑ نے انگلش کھلاڑیوں کو بھی حیران کردیا۔

اس موقع پر ایک اور بحث نے بھی جنم لیا۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ شاداب نے بظاہر ریویو کا اشارہ نہیں کیا تھا، اس کے باوجود ان کے آؤٹ ہونے کے فیصلے کا جائزہ کیسے لیا گیا؟ اسی بنیاد پر کچھ لوگوں نے میچ فکسنگ کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

تاہم صرف کسی ریویو کے طریقہ کار یا ٹی وی اسکرین پر نظر آنے والے اشارے کی بنیاد پر میچ فکسنگ ثابت نہیں ہوتی۔ ایسے دعووں کے لیے ٹھوس شواہد اور متعلقہ کرکٹ حکام کی تحقیقات ضروری ہوتی ہیں۔

فیصلہ تبدیل ہونے کے بعد شاداب نے کوئی موقع ضائع نہیں کیا اور اپنی شاندار بیٹنگ جاری رکھتے ہوئے پاکستان کو فتح کی منزل تک پہنچا دیا۔ ان کی 113 رنز کی ناقابل شکست اننگز نے نہ صرف میچ پاکستان کے حق میں کردیا بلکہ انہیں اس تاریخی مقابلے کا نمایاں ترین کھلاڑی بھی بنا دیا۔

پاکستان نے اس فتح کے ساتھ سہ فریقی سیریز میں اپنی ناقابل شکست مہم برقرار رکھی اور مسلسل کامیابیوں کے بعد فائنل میں جگہ بنالی ہے۔ اب قومی ٹیم کا فائنل میں مقابلہ 31 اکتوبر کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوگا۔