بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ اور کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت پیر کو بیجنگ میں اہم اجلاس کے لیے جمع ہوگئی، جسے چین کی آئندہ سیاسی سمت، قیادت میں ممکنہ تبدیلیوں اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا یہ اجلاس پانچواں پلینم ہے، جس میں تقریباً 300 ارکان شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران پارٹی صفوں میں نظم و ضبط مزید سخت کرنے، بدعنوانی کے خاتمے اور حکام کی کارکردگی اور وفاداری بہتر بنانے کے اقدامات پر غور متوقع ہے۔
اجلاس بند کمرے میں سخت سکیورٹی کے درمیان ہورہا ہے اور اس کی بیشتر تفصیلات جمعرات کو اختتام تک منظر عام پر آنے کا امکان نہیں۔
شی جن پنگ کی قیادت پر توجہ
پانچواں پلینم ایسے وقت میں ہورہا ہے جب اگلے سال چین میں کمیونسٹ پارٹی کی اہم کانگریس متوقع ہے۔ اس کانگریس میں شی جن پنگ کی قیادت اور اعلیٰ حکومتی و پارٹی عہدوں پر ممکنہ ردوبدل پر پوری دنیا کی نظریں ہوں گی۔
شی جن پنگ نے گزشتہ 14 برسوں کے دوران بدعنوانی کے خلاف وسیع مہم چلائی، جس کے نتیجے میں ہزاروں سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ مرکزی کمیٹی کے متعدد ارکان بھی اس مہم کی زد میں آچکے ہیں۔
چینی صدر اب ان عہدیداروں کے خلاف بھی سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں جو بظاہر مرکزی قیادت کے احکامات کی حمایت کرتے ہیں لیکن عملی طور پر ان پر عمل نہیں کرتے۔
فوج میں بھی بڑی صفائی
شی جن پنگ کی انسداد بدعنوانی مہم کا دائرہ چینی فوج تک بھی پھیل چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مرکزی عسکری کمیشن کے سات میں سے پانچ ارکان کو عہدوں سے ہٹایا جاچکا ہے۔
ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2022 میں مرکزی کمیٹی کے لیے مقرر کیے گئے فوج سے تعلق رکھنے والے 44 ارکان میں سے صرف دو ایسے ہیں جنہیں اب تک برطرف یا منظر سے غائب نہیں کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ اجلاس میں مرکزی عسکری کمیشن میں نئے ارکان کی تقرری بھی زیر بحث آسکتی ہے، تاہم یہ فیصلہ اگلے سال ہونے والی پارٹی کانگریس تک مؤخر کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔
چین کو چیلنجز
سیاسی معاملات کے ساتھ چین کی قیادت کو معاشی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں اندرونی صارفین کے اخراجات کی سست روی بدستور ایک چیلنج بنی ہوئی ہے، جبکہ پراپرٹی سیکٹر کا طویل بحران بھی معیشت پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
اس کے علاوہ امریکا اور چین کے درمیان سیاسی اور تجارتی تعلقات میں اتار چڑھاؤ بھی چینی قیادت کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔
پانچواں پلینم جمعرات کو ختم ہوگا، جس کے بعد چینی حکام اجلاس کے اہم فیصلوں اور نتائج کا خلاصہ جاری کریں گے۔


