اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے صوبائی حکومت کی جانب سے انتخابات نہ کرانے کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ 24 میں سے 16 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہونے کے باوجود انتخابات کیوں نہیں کرائے جاسکتے؟ کمیشن نے واضح کیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود بلدیاتی انتخابات کرانے پر کوئی قانونی پابندی نہیں۔
چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی، جس میں خیبرپختونخوا کے مشیر قانون نے صوبے میں بدامنی، ایمرجنسی کے نفاذ اور بعض علاقوں میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کے باعث 12 اضلاع میں فی الحال بلدیاتی انتخابات کرانے سے معذوری ظاہر کی۔
مشیر قانون خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ 11 اکتوبر کو صوبے کے مختلف اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، جبکہ موجودہ حالات میں پورا صوبہ ایمرجنسی کی کیفیت سے دوچار ہے۔ مجوزہ قانونی ترامیم تیار کرکے وفاقی حکومت کو بھجوانا ضروری ہیں، اس لیے فوری قانون سازی ممکن نہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر راج کے باعث وزراء بھی موجود نہیں اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
اس پر الیکشن کمیشن حکام نے واضح کیا کہ ایمرجنسی کے دوران بلدیاتی انتخابات کرانے پر کوئی قانونی پابندی نہیں، تاہم امن و امان کی صورتحال الگ معاملہ ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے سوال اٹھایا کہ کیا آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ ہے؟ فوج کی سیکیورٹی میں انتخابات پُرامن انداز میں کیوں نہیں کرائے جاسکتے؟ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بھی کہا کہ ایمرجنسی بلکہ جنگ کے دوران بھی انتخابات کرانے کی بین الاقوامی مثالیں موجود ہیں۔
سماعت کے دوران سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کمیشن نے خیبرپختونخوا حکومت کو متعدد بار مہلت دی، تاہم بلدیاتی انتخابات سے متعلق ضروری قانون سازی مکمل نہیں کی گئی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ صوبائی حکومت کو مختلف اضلاع کی آبادی کی حد سے متعلق قانون سازی کے لیے بارہا آگاہ کیا گیا، لیکن اس معاملے پر پیش رفت نہیں ہوسکی۔
چیف الیکشن کمشنر نے مشیر قانون سے دوبارہ استفسار کیا کہ باقی 16 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہونے کے باوجود انتخابات کیوں نہیں کرائے جاسکتے؟ کیا انتخابات نہ کرانے کی یہی وجہ ہے یا اس کے علاوہ بھی کوئی معاملہ ہے؟
مشیر قانون خیبرپختونخوا نے انتخابات کے انعقاد سے متعلق مزید مشاورت کے لیے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر اٹارنی جنرل اور گورنر سے مشاورت ضروری ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ عوام یہ سمجھتی ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات نہیں کرانا چاہتا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے سامنے سچ آنا چاہیے اور کمیشن بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق حکم جاری کرے گا۔
چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ ممکن ہے بلدیاتی انتخابات روکنے کے لیے اسمبلی سے کوئی ترمیم منظور کرالی جائے، تاہم کمیشن اس معاملے کو بھی دیکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے باوجود انتخابات کرانا صوبائی سیٹ اپ کے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔
سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے سیکرٹری بلدیات خیبرپختونخوا کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ یا سابق حکومتی سیٹ اپ کی حمایت کے لیے نہیں بلکہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے معاملے پر اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے آئے ہیں۔الیکشن کمیشن نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔


