تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور سکیورٹی امور کے اہم عہدیدار محسن رضائی کے درمیان ملاقات ہوئی ہے، جس میں خطے کی سکیورٹی صورتِ حال، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اور آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق معاملات پر غور کیا گیا۔
ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور محسن رضائی کے درمیان علاقائی استحکام کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعاون بڑھانے اور آبنائے ہرمز کے انتظام کو قومی و علاقائی مفادات کے تحفظ سے جوڑنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اس موقع پر مؤقف اختیار کیا کہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں جاری غیر یقینی کیفیت سے نکلنے کے لیے ایرانی قیادت کی مقرر کردہ شرائط کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، کسی بھی پیش رفت میں ایرانی عوام اور مزاحمتی محاذ کے حقوق و مفادات کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اس ملاقات کا اعلان محسن رضائی کی سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بات چیت کے اگلے روز سامنے آیا۔ ان تینوں ممالک نے حال ہی میں باہمی دفاعی تعاون سے متعلق مکہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی قیادت کے دیگر اہم ارکان کی جانب سے بھی سپریم لیڈر سے ملاقاتوں کی اطلاعات دی گئی ہیں۔ ان میں عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی اور پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف شامل ہیں۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر کی ملاقات کو بھی حالیہ سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں اہمیت دی جا رہی ہے۔


