اوسلو: ناروے کے بڑے میڈیا اداروں نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کی نئی صارف پالیسی کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ناروے کے 10 میڈیا اداروں نے اوسلو کی ضلعی عدالت میں درخواست دائر کی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک میٹا کی نئی شرائط کے نفاذ کو عارضی طور پر روکا جائے۔
میڈیا اداروں کے مطابق، نئی شرائط 20 نومبر سے نافذ ہونے والی ہیں اور ان کے تحت میٹا کو صحافتی مواد جمع کرنے اور استعمال کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ اس میں وہ مواد بھی شامل ہوسکتا ہے جو سبسکرپشن یا ادائیگی کے ذریعے دستیاب ہوتا ہے۔
ناروے کی میڈیا بزنسز ایسوسی ایشن کی سربراہ لینے ایلٹوک وِنڈفیلڈ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ میٹا نئی پالیسی کے ذریعے صحافتی مواد پر حقوق حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ادارے اپنی رپورٹنگ، تصاویر اور ویڈیوز کی تیاری پر سرمایہ خرچ کرتے ہیں، لیکن انہی کی محنت کو استعمال کرکے ایسی مصنوعی ذہانت کی خدمات تیار کی جاسکتی ہیں جو براہِ راست انہی اداروں کی حریف بن جائیں۔
وِنڈفیلڈ کے مطابق یہ صورتِ حال نہ صرف میڈیا کمپنیوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے بلکہ مسابقت کے عمل کو بھی متاثر کرتی ہے۔
مواد کے حقوق کا تحفظ؟
درخواست گزار میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ میٹا کی نئی شرائط صرف نیوز اداروں تک محدود نہیں ہوں گی، بلکہ پیشہ ورانہ اکاؤنٹس رکھنے والی کمپنیوں، کاروباری اداروں اور خوردہ فروشوں پر بھی لاگو ہوسکتی ہیں۔
ان کے مطابق، صارفین کے پاس ان شرائط کی مخالفت کا مؤثر راستہ موجود نہیں ہوگا اور انہیں پالیسی قبول نہ کرنے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس حذف کرنے پڑسکتے ہیں۔
اسی خدشے کے پیش نظر میڈیا اداروں نے عدالت سے عبوری حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے تاکہ مقدمے کے بنیادی نکات پر فیصلہ ہونے تک نئی پالیسی نافذ نہ ہوسکے۔
قانونی کارروائی میں ناروے کا سرکاری نشریاتی ادارہ این آر کے (این آر کے)، میڈیا گروپس شِبستید، امیڈیا، پولارس اور ایلر، جبکہ خبر رساں ادارہ این ٹی بی (این ٹی بی) بھی شامل ہیں۔
ان اداروں کا مؤقف ہے کہ صحافتی مواد کے استعمال سے متعلق حقوق اور شرائط واضح ہونا ضروری ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی مصنوعات کو تیزی سے وسعت دے رہی ہیں۔
میٹا کا مؤقف: نئی شرائط پر وضاحت کے لیے مہلت
اے ایف پی کے رابطہ کرنے پر میٹا نے بتایا کہ اس نے نئی صارف شرائط کے نفاذ کی تاریخ آگے بڑھا کر 20 نومبر کردی ہے، تاکہ شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو تبدیلیوں اور ان کے اثرات سے آگاہ کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔
تاہم خبر میں میٹا کی جانب سے مقدمے کے بنیادی قانونی اعتراضات پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ناروے کی میڈیا بزنسز ایسوسی ایشن اور این آر کے نے 14 اکتوبر کو بھی میٹا کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ اس وقت ان اداروں نے الزام لگایا تھا کہ کمپنی ایسے جعلی اشتہارات سے فائدہ اٹھا رہی ہے جن میں ان کی شناخت استعمال کرکے انٹرنیٹ صارفین کو دھوکا دیا جاتا ہے۔
نئی قانونی کارروائی اب اس وسیع تر بحث کو مزید اہم بناتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں صحافتی مواد کا استعمال کن شرائط کے تحت ہونا چاہیے اور مواد تخلیق کرنے والے اداروں کے حقوق کا تحفظ کیسے ممکن بنایا جائے۔


