تاریخ کا سب سے بڑا کرپٹو ہیک: بائننس سے 6.3 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل کرنسی چوری

ہانگ کانگ:دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس کو تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں ہیکرز نے تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں تک غیر قانونی رسائی حاصل کرکے انہیں مختلف بلاک چین نیٹ ورکس پر منتقل کردیا۔ اس واقعے نے عالمی کرپٹو مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ کمپنی نے متاثرہ صارفین کے نقصانات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق یہ حملہ 29 اکتوبر کو سامنے آیا، جس کے بعد بائننس نے اپنے سیکیورٹی نظام کی تحقیقات شروع کردیں اور احتیاطی تدبیر کے طور پر صارفین کے ڈپازٹس اور رقم نکلوانے کی سہولت عارضی طور پر معطل کردی۔

حملہ کیسے ہوا؟

ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ ہیکرز نے بائننس کے ایک ڈیو اوپس انجینئر کے لیپ ٹاپ تک رسائی حاصل کرکے کمپنی کے اندرونی سسٹم میں نقب لگائی۔ اس کے ذریعے حملہ آوروں کو ایسے سروس سسٹم تک رسائی ملی جس کی مدد سے ڈیجیٹل اثاثوں کی منتقلی کی اجازت دی جاتی ہے۔

تاہم مزید تحقیقات کے دوران کمپنی نے انکشاف کیا کہ معاملہ کسی ایک لیپ ٹاپ تک محدود نہیں تھا بلکہ سیکیورٹی نظام میں متعدد مقامات پر نقب لگائی گئی۔ ہیکرز نے بائننس کے 17 ہاٹ والیٹس سے مختلف کرپٹو اثاثے نکالے اور انہیں متعدد بلاک چین نیٹ ورکس پر منتقل کیا۔

بلاک چین تجزیاتی اداروں کے مطابق چوری کی بڑی کارروائی تقریباً 20 منٹ کے دوران انجام دی گئی، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 6.3 ارب ڈالر کے اثاثے متاثر ہوئے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اب تک اسے صارفین کے والٹ کی نجی چابیاں لیک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

شمالی کوریا پر شبہ

واقعے کے بعد مختلف کرپٹو کمپنیوں اور ڈیجیٹل اثاثوں کے اجرا کرنے والے اداروں نے مشتبہ فنڈز کو روکنے کے لیے اقدامات کیے۔ بائننس کے مطابق تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کے متاثرہ اثاثے منجمد کیے جاچکے ہیں۔

دوسری جانب کرپٹو کرائم کی تحقیقات کرنے والے ادارے ٹی آر ایم لیبز نے حملے کے پیچھے شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر کے ملوث ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا ہے۔ اس گروپ پر ماضی میں بھی بڑے کرپٹو سائبر حملوں کے الزامات لگتے رہے ہیں، تاہم اس واقعے میں ذمہ داری کا حتمی تعین ابھی نہیں ہوا۔

صارفین کی رقم محفوظ ہونے کی یقین دہانی

بائننس نے اپنے صارفین کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس واقعے سے ہونے والے تمام نقصانات کی تلافی کرے گی۔ کمپنی کے مطابق اس مقصد کے لیے اس کا صارفین کے تحفظ کا فنڈ (ایس اےایف یو) اور دیگر دستیاب مالی وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

کمپنی نے متاثرہ والٹس کی اجازتیں منسوخ کردی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، بلاک چین ماہرین اور دیگر کرپٹو کمپنیوں کے ساتھ مل کر چوری شدہ اثاثوں کا سراغ لگانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔

بائننس نے بتایا ہے کہ ڈپازٹس کی سہولت متاثر نہیں ہوئی، تاہم سیکیورٹی جانچ مکمل ہونے تک رقم نکلوانے پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق تحقیقات اور حفاظتی اقدامات کے بعد یہ سہولت دوبارہ بحال کی جائے گی۔

بائی بٹ ہیک کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا

اس حملے کی غیر معمولی مالیت نے کرپٹو کرنسی کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ اس سے قبل فروری 2025 میں کرپٹو ایکسچینج بائی بٹ پر ہونے والا سائبر حملہ سب سے بڑی واردات سمجھا جاتا تھا، جس میں تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے چوری ہوئے تھے۔

بائننس پر ہونے والے تازہ حملے میں متاثرہ اثاثوں کی مالیت اس سے چار گنا سے بھی زیادہ بتائی جارہی ہے۔

واقعے کے بعد بٹ کوائن اور ایتھیریم سمیت بڑی کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے عالمی ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے۔