تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے نئے اہداف کی نشاندہی اور نئے جغرافیائی علاقوں میں آپریشنز کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق آئی آر جی سی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے یکم نومبر کو بیان میں کہا کہ ایران نے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک وسیع عملی دائرہ کار متعین کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے اہداف کی نشاندہی اور مختلف جغرافیائی علاقوں میں ممکنہ کارروائیوں کی تیاری ایجنڈے میں شامل ہے۔
ترجمان نے یہ بیان ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے اعلیٰ فوجی قیادت کو دی گئی ہدایات کے تناظر میں دیا۔ خامنہ ای نے فوجی کمانڈروں کو خبردار کیا تھا کہ ایران کو کسی بھی نوعیت کے خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دینا چاہیے، جبکہ ممکنہ ردعمل کے لیے جغرافیائی حدود کو رکاوٹ نہیں سمجھا جائے گا۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ قطر میں ایرانی حکام اور ثالثوں کے درمیان آبنائے ہرمز کی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت ہوئی ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔


