بنگلا دیش میں گارمنٹس ورکرز اجرتوں میں اضافے کے لئے سڑکوں پر آگئے۔ فیکٹریاں بند

ڈھاکا: بنگلا دیش میں گارمنٹس انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں مزدوروں نے تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے پر احتجاج کرتے ہوئے مختلف صنعتی علاقوں میں سڑکیں بند کردیں، جس کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ احتجاج کے دوران متعدد مقامات پر توڑ پھوڑ اور گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے، جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق احتجاج کا سلسلہ یکم نومبر سے شدت اختیار کرگیا، جب ڈھاکا، غازی پور، ساور اور اشولیا سمیت اہم صنعتی علاقوں میں گارمنٹس ورکرز بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ ہے کہ ان کی کم از کم ماہانہ تنخواہ موجودہ 12 ہزار 500 ٹکا سے بڑھا کر 30 ہزار ٹکا کی جائے۔

مزدوروں کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ان کی آمدنی کو ناکافی بنا دیا ہے۔ کھانے پینے کی اشیا، مکان کے کرائے، ٹرانسپورٹ اور علاج معالجے کے اخراجات میں اضافے کے باعث موجودہ تنخواہوں میں گھریلو ضروریات پوری کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

پولیس سے جھڑپیں

ڈھاکا کے علاقے میرپور میں مظاہرین نے اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر دھرنا دے کر ٹریفک معطل کردی۔ پولیس کی جانب سے راستے کھلوانے کی کوشش کے دوران مظاہرین اور اہلکاروں کے درمیان تصادم ہوا، جس میں پتھراؤ اور تعاقب کے واقعات پیش آئے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق میرپور میں ایک پولیس گاڑی کو آگ لگا دی گئی، جبکہ غازی پور میں بھی گاڑیوں اور فیکٹری سے متعلق املاک کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

پولیس نے احتجاجی ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے سرحدی محافظ دستوں کو بھی بعض صنعتی علاقوں میں تعینات کیا گیا۔

احتجاج کے باعث ڈھاکا اور گردونواح میں ٹریفک کا نظام بھی شدید متاثر ہوا، جبکہ بعض مقامات پر میٹرو اسٹیشنوں تک رسائی میں رکاوٹیں پیش آئیں۔

سیکڑوں فیکٹریاں بند

بنگلا دیش گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق یکم نومبر کو احتجاج اور مزدوروں کے کام چھوڑنے کے باعث ملک کے مختلف صنعتی علاقوں میں 529 فیکٹریوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جبکہ تقریباً 9 لاکھ 87 ہزار مزدور اپنے کام کی جگہوں سے چلے گئے۔

رپورٹ کے مطابق غازی پور اور میمن سنگھ میں 276 فیکٹریاں متاثر ہوئیں، جہاں 6 لاکھ 45 ہزار سے زائد مزدور کام سے غیر حاضر رہے۔ اسی طرح ساور، اشولیا اور جیرانی میں 185 فیکٹریوں کا کام متاثر ہوا، جبکہ ڈھاکا کے میرپور علاقے میں بھی درجنوں فیکٹریاں متاثر ہوئیں۔

احتجاج کے باعث بعض فیکٹریوں کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا، تاہم 2 نومبر کو متعدد فیکٹریوں میں دوبارہ کام شروع ہوگیا، جبکہ مختلف صنعتی علاقوں میں احتجاج جاری رہا۔

احتجاج روکنے اور تنخواہوں کے تنازع کا حل تلاش کرنے کے لیے بنگلا دیشی حکومت نے یکم نومبر کو کم از کم اجرت کا جائزہ لینے کے لیے 6 رکنی بورڈ قائم کردیا ہے۔

بورڈ میں مزدوروں اور فیکٹری مالکان کے نمائندوں کے علاوہ حکومتی اور غیر جانب دار نمائندے بھی شامل ہیں۔ اس کا مقصد گارمنٹس ورکرز کی موجودہ تنخواہوں کا جائزہ لے کر نئی کم از کم اجرت کی سفارشات تیار کرنا ہے۔

بنگلا دیش کے وزیر محنت و روزگار عارف الحق چوہدری نے مزدوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج ختم کرکے کام پر واپس آئیں اور اپنے مطالبات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

تاہم مزدور رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ صرف اجرت بورڈ قائم کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ تنخواہوں میں حقیقی اور فوری اضافہ ضروری ہے۔

بنگلا دیش کی گارمنٹس انڈسٹری ملک کی معیشت میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس شعبے سے تقریباً 40 لاکھ افراد وابستہ ہیں اور یہ ملک کی مجموعی برآمدات میں 80 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے، جبکہ ملکی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔

بنگلا دیش چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ملبوسات برآمد کرنے والا ملک ہے اور اس کی فیکٹریاں عالمی سطح کے متعدد معروف برانڈز کے لیے کپڑے تیار کرتی ہیں۔

صنعتی مالکان کا کہنا ہے کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، گیس اور بجلی کی فراہمی میں مسائل اور عالمی منڈیوں میں طلب کی غیر یقینی صورتحال پہلے ہی کاروباری لاگت میں اضافہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق طویل احتجاج اور فیکٹریوں کی بندش سے برآمدی آرڈرز کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے اور عالمی خریداروں کا اعتماد بھی کم ہوسکتا ہے۔

فی الحال حکومت کی جانب سے قائم کردہ اجرت بورڈ نے نئی تنخواہوں کا اعلان نہیں کیا، جبکہ مزدوروں اور فیکٹری مالکان کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ آنے والے دنوں میں ہونے والے مذاکرات اس تنازع کے حل اور بنگلا دیش کی اہم برآمدی صنعت کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔